ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا ہوم سیکرٹری پنجاب نور الامین مینگل کی کارکردگی پر اظہار اطمینان 

لاہور ہائیکورٹ کا ہوم سیکرٹری پنجاب نور الامین مینگل کی کارکردگی پر اظہار اطمینان 
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں منشیات کے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت  ہوم سیکرٹری پنجاب نور الامین مینگل، سمیت دیگر افسران پیش ،عدالت نے ہوم سیکرٹری کی پیش رفت رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں  پی ایف ایس اے کی رپورٹس بروقت تیار کروانے کے حوالے سے اقدامات کا حکم  دیا ہے،عدالت نے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل محمد اسد تحریم بیگ کے دلائل سننے کے بعد ملزم کی ضمانت خارج کردی ۔

جسٹس سید شہباز علی رضوی نے ملزم  سید اعجاز حیدر کی درخواست ضمانت پر سماعت کی ,ہوم سیکرٹری نور الامین مینگل،ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل محمد اسد تحریم بیگ کے ہمراہ پیش ہوئے ,ایس پی انویسٹیگیشن اقبال ٹاؤن سدرہ خان  بھی پیش ہوئیں, جسٹس  سید شہباز علی رضوی نے ہوم سیکرٹری پنجاب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کیا آپ کے علم میں ہے کہ  آپ کو کس لئے بلوایا گیا، ہوم سیکرٹری پنجاب نے جواب دیا جی ، میرے علم میں ہے ،  پہلے ہی سے اس بارے ضروری اقدامات اٹھا چکا ہوں ، دوہزار گیارہ میں فرانزنک  کا آغاز ہوا تھا ، اس کے بعد کوئی کام نہیں کیا گیا تھا ، میں نے تعیناتی کے بعد فرانزنک سائنس اتھارٹی کو مزید فعال کرنے کے لئے کئی اقدامات کئے ، کم و بیش 650 ضروری آلات فراہم کئے ، جس پر ایک  ارب  کی گرانٹ جاری کی گئی ، ہوم سیکرٹری  پنجاب نور الامین مینگل نے عدالت کو مزید بتایا کہ فرانزک سائنس  اتھارٹی کے لئے آئندہ سالوں میں مزید چار ارب فراہم کئے جائیں گے ،اس رقم  سے  ملتان میں  علیجدہ جدید  لیبارٹری کے قیام کے لئے جگہ کا بھی تعین کرلیا ،ہم ہر ممکن کوشش کررہے ہیں کہ جہاں بھی کوئی جرم ہو سب سے پہلے فرانزک یونٹ موقع پر پہنچے، فرانزک سائنس اتھارٹی یونٹ شہادت کو ضایع ہونے سے پہلے محفوظ کرے ، اتھارٹی بنانے کا بنانے کا مقصد بھی یہاں تھا کہ سنگین نوعیت کے معاملات میں شہادت ضانع نہ ہو ، ڈی جی ، پی ایف ایس اے کو اینالسٹ ، سائنٹسٹ کی کمی پوری کرنے کے کنٹریکٹ بھرتی کا اختیار دیا ، ہوم ڈی جی رانزنک اتھارٹی سائنسدان اچھے ہوں گے ، لیکن ایڈمنسٹریٹر اچھے نہیں ہیں، ڈی جی پی ایف ایس اے نے ہمشہ ملتان میں نئی لیبارٹری کے قیام کی مخالفت کی ،جسٹس سید شہباز علی رضوی نے ہوم سیکرٹری  سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دئیے یہاں رہوٹس کی تاخیر کی وجہ سے مسائل ہوتے ہیں ، ڈی جی  سے آپ مطمن نہیں یہ  آپ کا مسئلہ ہے ،  اسے انتظامی پور پر حل کریں ، ہوم سیکرٹری پنجاب نے جواب دیا  میرے اختیار دینے کے باوجود رولز کے تحت ڈی جی نے کنٹریکٹ پر کوئی بھرتی نہیں کی ، جسٹس  سید شہباز علی رضوی نے ریمارکس دئیے منشیات کے کیسز میں  تین تین اور قتل کیسز نو نو ماہ تک رپورٹ نہیں آتی ،حکومت کا بہت اچھا اقدام تھا جو لیب بنائی ، اسے بڑھانے کی ضرورت ہے، ہوم سیکرٹری پنجاب نے جواب دیا انشاء اللہ اس کو جلد جلد مزید بہتر کیا جائے گا ،  تاکہ مزید ایسے مسائل پیدا نہ ہوں ، فرانزنک سائنس اتھارٹی کی فوری رپورٹس  انی چائیے تاکہ بروقت فیصلے ہوسکیں ، ہوم سیکرٹری بولے انشاء آئندہ ایسے ہی ہوگا ،  اس کیس میں ملزم کے خلاف تھانہ ملت پارک پولیس  نے ملزم کے خلاف دو کلو آئیس ، ایک کلو افیون ، اور چرس رکھنے کا مقدمہ درج کررکھا ہے ، عدالت نے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل محمد اسد تحریم بیگ کے دلائل سننے کے بعد ملزم کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت خارج کردی۔

Ansa Awais

Content Writer