ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیتن یاہو غزہ جنگ دو ہفتوں میں ختم کرنے پر متفق: اسرائیل ہیوم کا دعویٰ

Gaza war, Gaza ceasefire on cards, Israel Hume report, Times of Israel , Netanyahu, Hamas , Hostages deal
کیپشن: منگل 18 مارچ کو  شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ میں رات بھر اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے کے درمیان سے لوگ چلتے ہوئے  دکھائی دے رہے ہیں اور دو بچے فوٹو گرافر کو کام کرتے دیکھ رہے ہیں۔ غزہ پر اسرائیل کے مہلک حملوں کی عالمی سطح پر مذمت ہوئی، کیونکہ نیتن یاہو نے کہا کہ ان کے پاس یرغمالیوں کو واپس لانے کے لیے فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔ 42 روزہ جنگ بندی کو ٹوٹے تین ماہ گزر چکے ہیں، اس دوران حماس کی تحویل میں موجود کئی یرغمالی مارے تو گئے لیکن رہا کوئی نہیں ہوا، (فوٹو: بشار طالب/اے ایف پی)

 سٹی42:  ایک اسرائیلی نیوز آؤٹ لیٹ کی طرف سے  کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ کی جنگ دو ہفتوں کے اندر ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

اس ہفتے کے شروع میں ایران پر امریکی حملے کے بعد، وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ کے تیزی سے خاتمے اور "ابراہام معاہدے" کی توسیع پر اتفاق کیا ہے۔ یہ بات اسرائیلی نیوز آؤٹ لیٹ اسرائیل ہیوم نے "بات چیت سے واقف ذریعہ" کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کی ہے۔

آؤٹ لیٹ کے مطابق، ٹرمپ اور نیتن یاہو نے فون کال میں اس بات پر اتفاق کیا کہ غزہ میں جنگ دو ہفتوں میں ختم ہو جائے گی۔ متحدہ عرب امارات اور مصر سمیت چار عرب ریاستیں حماس کی جگہ غزہ کی پٹی پر مشترکہ طور پر حکومت کریں گی۔اس  دہشت گرد گروپ کی قیادت کو جلاوطن کر دیا جائے گا، اور تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

تاہم، عرب اتحادیوں نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کی جنگ کے بعد کی بحالی میں اس وقت تک حصہ نہیں لیں گے جب تک کہ مستقبل کے دو ریاستی حل کی طرف پاتھ وے  کے حصے کے طور پر،  فلسطینی اتھارٹی کو غزہ میں قدم جمانے کے لیے اسرائیل کی رضامندی نہ مل جائے۔

صورتحال یہ ہے کہ  نیتن یاہو نے غزہ کی  پٹی میں فلسطینی اتھارٹی کے کسی بھی کردار کو صاف طور پر مسترد کر دیا ہے۔

مزید یہ کہ حماس کے رہنما بھی طویل عرصے سے جلاوطنی کے مطالبات کو مسترد کرتے چلے آ رہے ہیں۔

نیوز آؤٹ لیٹ اسرائیل ہیوم کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو پیر کی رات دیر گئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور اسرائیل کے اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر کی "خوشگوار" کال میں شامل ہوئے تھے۔

اسرائیل ہیوم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے جو  باشندے ہجرت کرنا چاہتے ہیں انہیں کئی نامعلوم ممالک جذب کر لیں گے۔

سعودی عرب اور شام اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کریں گے اور دیگر عرب اور مسلم ممالک بھی اس کی پیروی کریں گے۔

اسرائیل، اپنی طرف سے، مستقبل کے دو ریاستی حل کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرے گا، جو فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے کی جانے والی اصلاحات سے مشروط ہے۔ دریں اثنا،  ان (امریکی اور اسرائیلی) رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ واشنگٹن مغربی کنارے کے کچھ حصوں میں اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم کرے گا۔

اسرائیل ہیوم نے اس رپورٹ میں لکھا کہ یہ اہم منصوبہ منگل کو ایران کی جانب سے نوزائیدہ جنگ بندی کی خلاف ورزی پر اسرائیل کی منصوبہ بند انتقامی کارروائی پر ٹرمپ کے غصے کی وضاحت کر سکتا ہے، اور اس سے ہی تروتھ سوشل میں ٹرمپ کی اس  پوسٹ کی بھی وضاحت ہوتی ہے جو نیتن یاہو کے بدعنوانی کے مقدمے کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔

واضح رہے کہ نیتن یاہو پر مقدمہ اسرائیل کا نظامِ انصاف چلا رہا ہے اور اس کے کسی بیرونی دباؤ پر ختم ہو جانے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔