ملک اشرف: جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی جانب سے چیف سیکرٹری پنجاب سمیت متعلقہ حکام کو لیگل نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس میں پنجاب میں امراضِ قلب کے مریضوں کے لیے بنیادی سہولیات کی کمی پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں یومیہ پانچ ہزار تک مریض آتے ہیں، مگر دل کے امراض کی جان بچانے والی ادویات نایاب ہیں۔ خاص طور پر ہارٹ فیلئر کی دوائیں جیسے 'ٹیکاگریلر' دستیاب نہیں ہیں، اور دل کے دورے کے فوری علاج کے لیے ناگزیر پی پی سی آئی کی سہولیات بھی موجود نہیں۔ تشخیصی ٹیسٹ اور ایمرجنسی نظام بے اثر ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
نوٹس میں مزید کہا گیا کہ پی آئی سی اور محکمہ صحت میں انتظامی بدحالی عروج پر ہے، سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی بھاری تعداد میں اسامیاں خالی ہیں، اور محکمہ صحت اور ڈریپ کی نااہلی سے قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ بجٹ کے باوجود ادویات کی غیر دستیابی اور غیر شفاف ٹینڈرز بھی سوالیہ نشان ہیں۔
لیگل نوٹس میں ہدایت کی گئی ہے کہ سیکرٹری صحت اور ڈی جی ڈریپ 14 روز میں رپورٹ پیش کریں، بصورت دیگر قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔