ایم وقار: پُرکشش شخصیت اور جاندار اداکاری سے اپنی منفرد پہچان بنانے والی ٹی وی کی معروف اداکارہ خالدہ ریاست کو مداحوں سے بچھڑے 30 برس بیت گئے، وہ 43 برس کی عمر میں کینسر کے باعث 26 اگست 1996 کو خالق حقیقی سے جا ملیں، تاہم ان کا فن آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
یکم جنوری 1953 کو کراچی میں پیدا ہونے والی خالدہ ریاست نے اپنے فنی سفر کا آغاز ڈرامہ ’’نامدار‘‘ سے کیا، تاہم حسینہ معین کے لکھے ڈرامے ’’بندش‘‘ سے انہیں بھرپور شہرت ملی۔ وہ 70 اور 80 کی دہائی میں روحی بانو کے ساتھ صف اول کی اداکاراؤں میں شمار ہوتی تھیں۔ مکالموں کی ادائیگی کے منفرد انداز نے انہیں دیگر اداکاراؤں سے ممتاز مقام دیا۔
خالدہ ریاست نے اپنے فنی سفر کا آغاز لاہور سے کیا اور پاکستان ٹیلی ویژن کے متعدد ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کے معروف ڈراموں میں ’’لازوال‘‘، ’’مانی‘‘، ’’دو کنارے‘‘، ’’ایک محبت سو افسانے‘‘، ’’نامدار‘‘، ’’بندش‘‘، ’’پڑوسی‘‘، ’’کھویا ہوا آدمی‘‘، ’’ٹائپسٹ‘‘ اور ’’ہاف پلیٹ‘‘ شامل ہیں۔
1970 کی دہائی کے اواخر میں نشر ہونے والے حسینہ معین کے تحریر کردہ اور محسن علی کے پیش کردہ ڈرامے ’’بندش‘‘ نے خالدہ ریاست کو گھر گھر مقبول کردیا۔ 70 اور 80 کی دہائی کے اوائل کا دور ان کے فنی سفر کا بہترین زمانہ قرار دیا جاتا ہے۔
1976 میں پاکستان ٹیلی ویژن کی رنگین نشریات شروع ہوئیں تو خالدہ ریاست کو لاہور مرکز سے نشر ہونے والے پہلے رنگین ڈرامے ’’پھول والوں کی سیر‘‘ میں آصف رضا میر کے مقابل اداکاری کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس ڈرامے کے مصنف اشفاق احمد اور پیش کار محمد نثار حسین تھے۔
خالدہ ریاست نے سنجیدہ کرداروں کے ساتھ ساتھ مزاحیہ اداکاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ڈرامہ سیریل ’’پڑوسی‘‘ میں ان کا مزاحیہ کردار ٹیلی ویژن پر ان کا آخری کام ثابت ہوا۔ وہ ہر کردار میں اس انداز سے ڈھل جاتی تھیں کہ کردار نمایاں ہوکر سامنے آتا تھا۔
90 کی دہائی میں بننے والے طویل دورانیے کے کھیل ’’ہاف پلیٹ‘‘ میں انہوں نے معین اختر کے ساتھ اداکاری کی اور مختلف نوعیت کے کردار نبھانے کی اپنی صلاحیت ایک بار پھر ثابت کی۔
خالدہ ریاست کو بریسٹ کینسر لاحق تھا، تاہم انہوں نے بڑی بہادری اور حوصلے کے ساتھ بیماری کا مقابلہ کیا۔ کینسر کے باعث وہ 26 اگست 1996 کو انتقال کرگئیں خالدہ ریاست کی فنی خدمات آج بھی انہیں مداحوں کے دلوں میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ وہ کراچی کے سخی حسن قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔