ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا تعلیمی ریکارڈ کی بحالی سے متعلق اہم فیصلہ

 لاہور ہائیکورٹ کا تعلیمی ریکارڈ کی بحالی سے متعلق اہم فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ کا تعلیمی ریکارڈ کی بحالی سے متعلق اہم فیصلہ ،لاہور ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ کورٹ کا 27 مئی 2017 کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کی درخواست منظور کرلی۔

جسٹس مزمل اختر شبیر نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کی اپیل پر پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔عدالت نے بورڈ کی جانب سے دائر اپیل کو سول نظرثانی کی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ درخواست کی بحالی کے لیے قانون تین سال کی مدت فراہم کرتا ہے، جبکہ ایسی درخواست کی بحالی کے معاملے میں آرٹیکل 168 کے بجائے آرٹیکل 181 کا اطلاق ہوتا ہے۔تحریری فیصلے کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے قانون کی درست تشریح نہ کرتے ہوئے درخواست خارج کی لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ تعلیمی بورڈ کی درخواست کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج لاہور کے روبرو زیر التوا تصور کیا جائے۔ عدالت نے لوئر کورٹ کو تمام فریقین کو سننے کے بعد معاملے کا میرٹ پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت عالیہ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کو ہدایت کی کہ معاملے کا جلد از جلد قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ فیصلے میں درخواست کی بحالی کی مدت اور متعلقہ قانونی شقوں کی تشریح بھی واضح کی گئی ہے۔

Ansa Awais

Content Writer