ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کولکتہ:طوفانی بارشوں سے تباہی، نظام زندگی مفلوج,تعلیمی ادارے بند،متعددہلاکتیں

کولکتہ:طوفانی بارشوں سے تباہی، نظام زندگی مفلوج,تعلیمی ادارے بند،متعددہلاکتیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: بھارتی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ میں طوفانی بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جہاں نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو گیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شدید بارشوں کے باعث شہر بھر میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے اور کئی گاڑیاں پانی میں پھنس چکی ہیں جبکہ سیکڑوں افراد کو سڑکوں پر ہی رات گزارنی پڑی۔

انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر سکول، کالجز اور دیگر تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ کولکتہ میں قائم امریکی قونصلیٹ نے بھی طوفانی بارش کے پیش نظر اپنے دفاتر بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر میں 251.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو 1986 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ بعض علاقوں میں بارش کا تناسب اس سے بھی زیادہ رہا، جیسے گاریا کامدہری میں 332 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

شدید بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 12 افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں 9 افراد کرنٹ لگنے سے، 2 پانی میں ڈوبنے سے اور 1 شخص دیوار گرنے کے نتیجے میں ہلاک ہوا۔ ریل، میٹرو اور فضائی سروسز بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔ کئی پروازیں اور ٹرینیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں، جبکہ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل رہی۔

درگہ پوجا کی تیاریوں کے لیے جمع کیا گیا سامان اور مورتیاں بھی پانی میں بہہ گئیں، جس سے مذہبی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ خلیج بنگال میں کم دباؤ کا نیا سسٹم بن رہا ہے، جس کے باعث آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے، لہٰذا شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ساحلی علاقوں سے دور رہیں۔

ابتدائی طور پر یہ بارش ایک ممکنہ کلاؤڈ برسٹ کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے تاہم محکمہ موسمیات نے اس کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات جنوبی ایشیا میں مون سون کے نظام کو مزید غیر متوقع اور خطرناک بنا رہے ہیں جس کے باعث شدید بارشوں اور سیلاب جیسے حالات معمول بنتے جا رہے ہیں۔