ویب ڈیسک : خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ قبائل اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوئے پاکستانی ہیں اور رہیں گے۔
سہیل آفریدی کا باڑہ میں امن جرگے سے خطاب میں کہنا تھاکہ میری نامزدگی پر اعتراضات اٹھائے گئے، ضم اضلاع کے بقایاجات فوری ادا کیے جائیں، ہمیں بھیک نہیں چاہیے ہمیں اپنا حق دیا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ہر ضلع میں امن جرگوں کا انعقاد کریں گے۔
ان کا کہنا تھاکہ قبائل اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوئے پاکستانی ہیں اور رہیں گے۔ہم مزید کسی آپریشن یا ڈرون حملے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ نائن الیون کے بعد ایک کے بعد ایک آپریشن اور ڈرون حملوں نے قبائلی علاقوں کو بری طرح متاثر کیا، مگر ریاست کی جانب سے آئی ڈی پیز سے کیے گئے وعدے آج تک پورے نہیں ہوئے۔وزیر اعلی کہا کہ 2018 میں کہا گیا تھا کہ قبائل میں امن قائم ہو گیا ہے، مگر آج پھر سے آپریشن کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ ہم اس بار قربانی کا بکرا بننے کے لیے تیار نہیں، اور کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت کریں گے۔
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت امن کی بحالی میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے، تاہم اس بار کسی قسم کا کولیٹرل ڈیمیج برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ کی میٹنگ جلد بلائے، صوبے کے لیے ساڑھے تین ارب روپے فراہم کرے، اور قبائلی علاقوں کے فیصلوں میں صوبائی حکومت و عوام کو اعتماد میں لے۔
وزیر اعلیٰ نے پنجابی میں کہا کہ "ساڈا حق ایتھے رکھ، ساڈا حق ایتھے رکھ" اور واضح کیا کہ ہمیں دوسروں کے استعمال شدہ وسائل نہیں بلکہ ہمارا اصل حق چاہیے۔