ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

برسات میں شدید بارشیں بلوچستان میں نہیں برسیں، بیشتر علاقوں پر خشک سالی کا حملہ

 Balochistan Drought, City42, Climate change
کیپشن: file photo بلوچستان مین خشک سالی مون سون سے پہلے سے چل رہی تھی، یہ خشک سالی پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں بھی تھی، برسات کے دوران پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا مین تو کافی بارش ہونے سے صورتحال کچھ سنبھل گئی، بلوچستان مین خشک سالی اب ایک بار پھر نمایاں ہو رہی ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: محکمہ موسمیات ایک طرف کئی ماہ تک یہ بتاتا رہا کہ حالیہ مون سون میں بہت زیادہ بارشیں ہوئیں اور سیلاب آئے، دوسری طرف اب ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ بلوچستان میں خشک سالی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔
 اب بلوچستان کے میٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے یہ بتایا جا رہا ہے کہ بارشیں بلوچستان مین بہت کم ہوئی ہیں، زیر زمین پانی کی سطح بہت زیادہ کر گئی ہے۔   جس کےنتیجے میں پینے کاپانی کئی علاقوں میں ناپید ہوگیا، زراعت اور گلہ بانی کے شعبے بھی متاثر ہورہے ہیں۔
صورت حال کا مشاہدہ کرنے والے بلوچستان میٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں بارشیں نہ ہونے کے سبب خشک سالی کےآثار نمایاں ہونے لگے۔

بارشو ں کے نہ ہونے سے زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے جس کےنتیجے میں پینے کاپانی ناپید ہوگیا، زراعت اور گلہ بانی کے شعبے بھی متاثر ہورہے ہیں۔

 بلوچستان کے اضلاع کوئٹہ، چاغی، خاران، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر میں یا تو بارش نہیں ہوئی یا معمول سے بہت کم ہوئی ہے۔

 محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق 21 جنوری سے 30 ستمبر کے دوران جیوانی میں مسلسل 253 خشک دن ریکارڈ کیے گئے، اسی طرح دالبندین میں 214، نوکنڈی میں 202 اور پنجگور میں 173 دنوں تک بارش نہیں ہوئی۔

ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات بلوچستان محمد افضل کے مطابق صوبے مغربی بیلٹ یعنی ژوب سے لے کر گوادر تک معمول سے کم بارش بھی نہیں ہوئی، خاص طور پر رخشان ڈویژن اور مکران ڈویژن اور پھر کوئٹہ میں بھی پچھلے تقریباً  6 ماہ سے خشکی کی صورتحال ہے۔

بلوچستان میں بارشوں کی کمی سے متاثرہ اضلاع میں زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے، گھریلو و زرعی استعمال کے لیے پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے جبکہ مال مویشیوں کے لیے پانی اور چارے کی کمی نے ماحولیاتی مسائل بھی بڑھا دیے۔

ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحفظ ماحولیات ابراہیم بلوچ کے مطابق یہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ہیں کہ کہیں زیادہ بارش سے سیلابی صورتحال کا سامنا رہاہے تو کہیں بارش کے نہ ہونےسے خشک سالی کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ صوبے کے جن اضلاع میں بارش نہیں ہورہی ہے وہاں خشک سالی سے نمٹنے کے لیے مصنوعی بارش کی ضرورت ہے، اسی سلسلے میں مصنوعی بارش کرانے کا ایک منصوبہ بھی زیر غور ہے اور ممکن ہے اس پر کام کیا جائے، آرٹیفشل ریننگ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کسی بھی علاقے میں ضرورت کے مطابق بارش کرائی جاسکتی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق خشک سالی سے متاثرہ ا ضلاع میں نومبر اور دسمبر کے مہینے میں بھی اچھی بارش کا امکان نہیں ہے، اس صورتحال میں ایک تو پانی کے ضیاع کو روکنے کےعلاوہ پانی کے دستیاب ذرائع کو محفوظ بنانا ہوگا تو دوسری جانب طویل منصوبہ بندی کے تحت بھرپور شجرکاری کرناہوگی۔