ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے شہری علی حسن کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے پولیس حکام کو بازیابی کے لیے مزید اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کر دی۔
جسٹس فاروق حیدر نے شہری محمد عثمان کی درخواست پر سماعت کی، جس کے دوران آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد، ڈی پی او گجرات، ڈی پی او منڈی بہاؤالدین سمیت دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران آر پی او گوجرانوالہ نے مبینہ مغوی کی بازیابی کے لیے کیے گئے اقدامات سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نوید رسول چٹھہ نے بھی پولیس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا۔
تفتیشی افسران نے عدالت کو بتایا کہ مبینہ مغوی کا موبائل فون اغوا سے قبل ہی بند تھا جبکہ پرانے ڈیٹا کے حصول کے لیے سی ڈی آر پراسس جاری ہے۔ پولیس کے مطابق کیس سے منسلک ایک ملزم دبئی میں موجود ہے جس کے ریڈ وارنٹ جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ دبئی پولیس نے ملزم کی چہرہ شناسی کے لیے نگرانی شروع کر دی ہے۔
درخواست گزار عثمان علی نے دوران سماعت دھمکیاں ملنے کا الزام بھی عائد کیا۔ عدالت نے درخواست گزار کو براہ راست آر پی او گوجرانوالہ سے رابطے کی ہدایت دیتے ہوئے آر پی او کو مکمل تعاون کا حکم دیا۔
عدالت نے درخواست گزار کو لاپتہ افراد کمیشن اسلام آباد سے رجوع کرنے کی بھی ہدایت کی اور مبینہ مغوی کی بازیابی کے لیے پولیس کو 23 جولائی 2026 تک مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔