ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے مبینہ مغوی خواتین کی عدم بازیابی پر پولیس حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب عبد الکریم کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے سائلہ سونیا بی بی کی درخواست پر سماعت کی، جس میں درخواست گزار نے اپنے قریبی رشتہ داروں کی بازیابی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار کے قریبی رشتہ داروں کو پولیس نے غیر قانونی حراست میں لیا جبکہ دورانِ حراست دو افراد کو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔
دوران سماعت وکیل وفاقی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کر رہی ہے۔ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کافی عرصے سے کیس زیر سماعت ہے مگر مبینہ مغوی اب تک بازیاب کیوں نہیں ہو سکے۔
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ستار ساحل نے یقین دہانی کرائی کہ عدالت کے احکامات پر سو فیصد عملدرآمد کیا جائے گا۔ دوسری جانب ڈی ایس پی نے مؤقف اختیار کیا کہ مدعی مقدمہ مبینہ مغویوں کی بازیابی کے لیے تعاون نہیں کر رہے، جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے حکم دیا کہ باقی زیر حراست افراد کو بازیاب کر کے آئندہ سماعت پر پیش کیا جائے۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر مبینہ مغوی بازیاب نہ ہوئے تو آئی جی پنجاب عبد الکریم یکم جون کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہو کر وضاحت دیں گے۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت یکم جون تک ملتوی کر دی۔