ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

81 کروڑ روپے کے مغز چلغوزوں کی خرد برد کا معاملہ ،ملزم  کی  لاہور ہائیکورٹ سے  ضمانت منظور

81 کروڑ روپے کے مغز چلغوزوں کی خرد برد کا معاملہ ،ملزم  کی  لاہور ہائیکورٹ سے  ضمانت منظور
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : اکبری مارکیٹ کے تاجروں کے 81 کروڑ روپے کے مغز چلغوزوں کی خرد برد کا معاملہ ،ٹھیکہ دار ملزم تصور حسین  کی   لاہور ہائیکورٹ سے  ضمانت منظور   ہوگئی ،عدالت  نے ملزم کو دس لاکھ کے دو ضمانتی  مچلکوں،   کے عوض  رہا کرنے کا حکم دے دیا

جسٹس فاروق حیدر نے ملزم تصور حسین کی درخواست ضمانت پر سماعت کی ،ملزم پر دیگر شریک ملزمان کے ہمراہ دس ٹن چلغوزہ خرد برد کرکے مارکیٹ میں فروخت کرنے کا الزام ہے،ڈی ایس پی  احمد عثمان  تھانہ شاد باغ کے سابقہ  تفتیش افسر کے ہمراہ پیش ہوئے، وکیل صفائی نے  ایف آئی ار کی کاپی پڑھ کر سنائی  اور عدالت کو بتایا کہ  ملزم پر الزام ہے کہ چلغوزہ  کی چودہ سو بوریاں خرد برد کرکے کولڈ سٹوریج کو آگ لگائی ، ایف آئی آر میں چار روز کی تاخیر ہے، اکتیس جولائی سے ملزم گرفتار اور جیل میں  ہے،  اس کیس کی تین مرتبہ تفتیش تبدیل ہوئی ہے،

جسٹس  فاروق حیدر نے ڈی ایس پی احمد عثمان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کی تفتیش میں تعین ہوا کہ  کولڈ سٹوریج کو کس نے آگ لگائی؟ کولڈ سٹوریج کو آگ لگانے کا ذمہ دار کون ہے، کیا ملزم کو آگ لگاتے ہوئے کسی چشم دید گواہ نے دیکھا ؟ ڈی ایس پی نے جواب دیا یہ تعین نہیں ہوسکا ، کہ ملزم تصور حسین نے آگ نہیں لگائی ، جب آگ لگی تو ملزم تصور حسین  وہاں موجود نہیں تھا ، میری تفتیش میں ملزم قصور وار ہے، پہلے انہوں نے  چھوٹی تعداد میں ڈرائی فروٹ سے خرد برد شروع کی ، خرد برد کے لئے پہلے بمبو لگانے کا طریقہ کار استعمال کیا گیا ، ملزم نے دیگر ملزمان  کے ہمراہ چھوٹی  بے ضابطگی سے بڑی  بے ضابطگی  کی ، ڈی ایس پی احمد عثمان  کا مزید کہنا تھا کہ پلان  کے تحت سٹوریج کو آگ  لگائی گئی ، ملزم  نے کچھ چلغوزوں  کو اے اور  کچھ  کو سی  کیٹیگری میں رکھا ہوا تھا ، ملزم سے  اے کیٹیگری کی آٹھ  ، بارہ بوریاں  بی کیٹگری چلغوزہ برآمد ہوا ، 38 خالی بوریاں ملیں  ، جسٹس  فاروق حیدر نے ڈی ایس پی  سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا  اگر جرم  سرزد ہوگیا تو آپ نے سیکشن 120 کیسے لگا لیا ، سازش کی دفعہ کیسے لگا سکتے ہیں ،  وکیل صفائی نے کہا  ملزم  30 جولائی سے گرفتار ہے ،چودہ روز کا ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد سے جیل میں ہے، جبکہ ملزم کا شریک ملزم محمد ارشد عرف ماہیا کی ضمانت ہوچکی ہے،  عدالت کے استفسار پر ڈی ایس پی نے بتایا کہ ملزم کا سابقہ ریکارڈ یافتہ نہیں ہے ،

جسٹس فاروق حیدر نے استفسار کیا اگر برآمدگی ہوئی ہے تو کیا پرت شناخت  تیار کیا گیا ہے،؟ ڈی ایس پی نے جواب دیا  نہیں سر ، سابق تفتیش افسر نے پرت شناخت نہیں بنایا ، جسٹس فاروق حیدر نے ڈی ایس پی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا مکمل قانونی  کاروائی نہیں کی جاتی ، پھر کہتے ہیں کہ عدالتیں ملزمان کو چھوڑ دیتی ہیں ، اگر چلغوزوں کی بوریوں کی برآمدگی ہوئی ہے تو ہرت شناخت تو ہونی چائیے تھی ، عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزم کی  بعد از گرفتاری درخواست ضمانت منظور کرلی ،مغز چلغوزہ اکبر منڈی کے 56 تاجروں کا تھا۔

Ansa Awais

Content Writer