ویب ڈیسک: یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے بحیرہ احمر کے ساحلی شہروں جیزان اور ینبع میں واقع آرامکو کی آئل تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ جیزان اور ینبع میں آرامکو کی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں جیزان ریفائنری کی سمت دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے، جبکہ تجارتی ذرائع نے ایندھن اور تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو ممکنہ نقصان کی اطلاعات دی ہیں۔ تاہم آرامکو نے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دیا۔
رپورٹ کے مطابق ینبع میں تیل کی تنصیبات کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل سعودی عرب میں تعینات یونانی فوج کے زیرِ استعمال امریکی پیٹریاٹ دفاعی نظام نے فضا ہی میں تباہ کر دیے۔ ینبع سعودی عرب کی بحیرہ احمر پر واقع اہم آئل پورٹ ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل برآمد کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی فضائیہ نے مأرب اور الجوف صوبوں میں حوثیوں کے میزائل اور ڈرون لانچنگ مقامات اور اسلحہ ڈپوؤں پر فضائی حملے کیے، جبکہ سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے الحدیدہ میں بھی حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور حوثیوں کے خلاف مزید بڑے فوجی اقدامات سے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم واشنگٹن تہران کے ساتھ رابطے میں ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارت صحت کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ رات ایران میں کوئی امریکی حملہ نہیں ہوا۔
رائٹرز کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر میں حالیہ حملوں کے بعد جنگ کے یمن تک مزید پھیلنے اور عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔