ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ: صرف بینک اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی انسانی اسمگلنگ کا ثبوت نہیں، اہم فیصلہ جاری

لاہور ہائیکورٹ: صرف بینک اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی انسانی اسمگلنگ کا ثبوت نہیں، اہم فیصلہ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے انسانی اسمگلنگ سے متعلق ایک مقدمے میں قرار دیا ہے کہ کسی شخص کے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونا، دیگر مضبوط شواہد کے بغیر، انسانی اسمگلنگ کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی ملزم کو جرم سے جوڑنے کے لیے ٹھوس، قابلِ اعتماد اور قابلِ قبول شواہد پیش کرنا تفتیشی ادارے کی ذمہ داری ہےجسٹس محمد امجد رفیق نے کشتی حادثے سے متعلق مقدمے میں ملزم محمد طاہر کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے 10 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ فوجداری قانون کے تحت کسی شخص کو صرف شبہ، قیاس آرائی یا مفروضے کی بنیاد پر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ استغاثہ کو ایسے شواہد فراہم کرنا ہوں گے جو ملزم کے مبینہ کردار کو واضح طور پر ثابت کریں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمے کے ریکارڈ اور تفتیشی مواد سے یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ محمد طاہر کسی منظم انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ تھا یا اس نے اس جرم میں فعال کردار ادا کیا۔ عدالت کے مطابق صرف بینک اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی، دیگر شواہد کے بغیر، ملزم کے خلاف کافی بنیاد نہیں بن سکتی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں انسانی اسمگلنگ جیسے بین الاقوامی نوعیت کے جرائم سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے بہتر قانون سازی، شواہد سے متعلق خصوصی قواعد اور جدید تفتیشی نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ فیصلے میں مختلف ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے، مشترکہ تحقیقات اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔

لاہور ہائیکورٹ نے ملزم محمد طاہر کی بعد از گرفتاری ضمانت پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ملزم اپنا پاسپورٹ متعلقہ عدالت میں جمع کرائے اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے طلب کیے جانے پر ہر پیشی پر حاضری یقینی بنائے۔