ملک اشرف:لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پارکنسن کا مرض اور جسمانی کمزوری کسی ملزم کی ضمانت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
جسٹس محمد امجد رفیق نے ملزم افتخار احمد کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ جسمانی کمزوری ایک الگ قانونی تصور ہے، جو میڈیکل گراؤنڈ سے مختلف ہے۔ اگر جیل رپورٹ میں بیماری ثابت ہو تو ملزم کو ضمانت دی جا سکتی ہے، کیونکہ بیمار قیدی کو غیر ضروری حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ انصاف کے ساتھ انسانیت بھی مقدم ہے، جبکہ انسانی وقار کو آئین کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ بیماری کے باعث معمول کی زندگی نہ گزار سکنے والے شخص کو "انفرم" تصور کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ جیل میں علاج کی سہولت دستیاب ہونا ضمانت سے انکار کی واحد وجہ نہیں ہو سکتی، بلکہ انسانی ہمدردی بھی ضمانت کے فیصلے میں اہم اصول ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے پارکنسن کے مرض میں مبتلا ڈاکٹر افتخار احمد کی ضمانت 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔
ملزم کے خلاف تھانہ سبزہ زار میں سال 2024 کے دوران مدعی کو زخمی کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔