ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

محبت میں سرحد پار کرنیوالے کی ضمانت کی درخواست دائر ہو گئی

محبت میں سرحد پار کرنیوالے کی ضمانت کی درخواست دائر ہو گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:   کہا جاتا ہے کہ محبت عواقب سے بے نیاز کر دیتی ہے، ایسا ہی ایک کیس منڈی بہاولدین کی عدالت میں سامنے آیا جہاں بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع علی گڑھ  کے ایک نوجوان کو پیش کیا گیا۔ یہ نوجوان ایک  پاکستانی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو کر  سرحد غیرقانونی طور پر عبور کر کے پاکستان آ گیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے اسلام قبول کر لیا ہے اور اب باقی زندگی پاکستان مین ہی رہنا چاہتا ہے۔

علی گڑھ ضلع سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان بادل بابو  (24 اگست 2023 ) غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوا تھا، جس کے بعد وہ منڈی بہاؤالدین کے کسی علاقے میں  غیر قانون طور پر رہ رہا تھا۔ اسے یکم جنوری 2024 کو منڈی بہاؤالدین سے ہی گرفتار کیا گیا  تھا۔اپنے بیان کے مطابق ایک  پاکستانی لڑکی کی محبت میں دیوانہ ہو کر پاکستان اور بھارت کی بہت زیادہ حساس سمجھی جانے والی سرحد پار کرن آیا تھا۔ بادل بابو  کہتےا ہے کہ وہ  اسلام قبول کرن چکا ہے اور باقی زندگی پاکستان مین ہی رہنا چاہتا ہے، تاہم اسے قانونی مشکلات کا سامنا ہے۔

عدالت میں پیشی کے دوران بادل کی اترپردیش ضلع علی گڑھ میں اس کے گھر والوں سے ویڈیو کال پر بات کروائی گئی۔ بادل نے وکیل کے ذریعے بات چیت میں والدین کو اپنی خیریت سے آگاہ کیا۔ اس نے گھر والوں سے کہا کہ آپ سب میری فکر نہ کریں، میں ثنا کے بغیر نہیں رہ سکتا، اس لیے میں اسلام قبول کر رہا ہوں۔ نوجوان نے کہا کہ اب میں پاکستان میں ہی رہوں گا۔ بھارت واپس آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

بادل نے اپنے والدین کو  بتایا کہ اس نے (غیر قانونی طریقہ سے سرحد پار کرنے کے سوا)  کوئی جرم نہیں کیا ہے اور وہ جھوٹ نہیں بول رہا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس نے اسلام قبول کرلیا ہے اور وہ  بھارت واپس نہیں آنا چاہتا ۔ 

بادل بابو کے وکیل فیاض رامے نے میڈیا کو بتایا کہ منڈی بہاؤالدین کی عدالت میں بادل کی ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ہے جس کی سماعت تین دن بعد ہوگی۔ رامے نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے آئین کے تحت ہر فرد کو منصفانہ ٹرائل کا حق حاصل ہے۔ وکیل نے واضح کیا کہ بادل کو اپنے اعمال کے قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وکیل نے بتایا کہ بادل بابو نے اسلام قبول کر لیا تھا اور مستقل طور پر پاکستان میں رہنے کا ذاتی فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے کو عدالت میں تسلیم کیا گیا، اور حکام نے تصدیق کی کہ بادل کا مقدمہ اس کی قانونی حیثیت کی بنیاد پر نمٹا جا رہا ہے۔ عدالت بالآخر فیصلہ کرے گی کہ کیس کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔ 

 پاکستان کے فارن ایکٹ، جو غیر قانونی داخلے اور مناسب سفری دستاویزات کی کمی سے متعلق ہے۔

محبت کے فنامنا کے پرستاروں کا خیال ہے کہ محبت میں گرفتار شخص کو دنیا کی کوئی جیل قید نہیں کرسکتی، اسے کوئی سرحد روک نہیں سکتی، جو ارادہ وہ اپنے ذہن و دل میں بٹھائے گھر کی دہلیز پار کرتا ہے تو آگے چاہے کئی امتحان بھی کھڑے ہوں کتنی رکاوٹیں آئیں وہ ان سے گزرنے کیلئے اپنی پوری قوت لگا دیتا ہے، محبت کے اس کھیل میں خوش قسمتی سے اپنی منزل تک بہت کم ہی پہنچ پاتے ہیں، ان میں سے کئی باولوں کو اگر گھر کی سرحد نہ روک پائے تو اور کئی سرحدیں انہیں اپنی منزل تک نہ پہنچانے میں اپنا اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ 

لوگ تو پاس بیٹھوں کی قدر نہیں کرتے تو ایسا کیا جذبہ اور پاگل پن ہے جو یہ سرپھرے کسی سرحد تک کی پرواہ نہیں کرتے، یہ اپنے من پسند شخص کیلئے سات سمندر پار تک جانے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ اب اسی بات کو قانونی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بغیر اجازت کسی کے ملک میں دخل اندازی پر بڑی سزا سنادی جاتی ہے، تاہم واقع کے متعلق پوری تفتیش کرکے ہی فیصلہ سنایا جاتا ہے کہ کسی کے ساتھ ظلم اور ناانصافی نہ ہو  ۔ 

Bilal Arshad

Content Writer