(راؤ دلشاد) پنجاب اسمبلی میں آج ملازمین سوشل سیکیورٹی آرڈیننس 1965 میں ترمیم کا بل اور چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 پیش سمیت متعدد بل پیش کئے گئے۔تمام مسودہ قانون و آرڈینینس 2 ماہ کے لئے متعلقہ کمیٹیوں کے حوالے کر دیئے گئے۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کے ایوان میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026، پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف ایموایبل پراپرٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2026 ، پنجاب لینڈ ریونیو (ترمیمی) آرڈیننس 2026 ، پنجاب پبلک یوٹیلیٹیز انفراسٹرکچر پروٹیکشن آرڈیننس 2026 ، صوبائی ملازمین کا سماجی تحفظ (ترمیمی) بل 2026 ،وقف، ٹرسٹ اور کوآپریٹو سوسائٹیز (مانیٹرنگ) بل 2026 ، سیلز ٹیکس آن سروسز (ترمیمی) بل 2026 اور پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (ترمیمی) بل 2026 پیش کئے گئے۔تمام مسودہ قانون و آرڈینینس 2 ماہ کے لئے متعلقہ کمیٹیوں کے حوالے کر دیئے گئے۔
: پنجاب حکومت مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے پر عزم ہے اور اس حوالے سےپنجاب اسمبلی میں ملازمین سوشل سیکیورٹی آرڈیننس 1965 میں ترمیم کا بل پیش کیا گیا ہے ، بل میں دور جدید کے تقاضوں کے مطابق قانونی اصلاحات تجویز کی گئیں، حکومت پنجاب ملازمین کی کم از کم اجرت 40000 روپے کو لازم بنانے کے لئے پر عزم ہے،اس بل کو صوبائی ملازمین سوشل سکیورٹی (ترمیم) ایکٹ 2026 کے نام سے جانا جائے گا۔بل کے متن کےمطابق کم از کم اجرت 40000 روپے ہو چکی تاہم 1965 کے مسودہ قانون میں پرانی تنخواہ کی حد کے دائرہ کار کی شق برقرار ہے، کم از کم اجرت 40000 ہو چکی مگر زیادہ سے زیادہ تنخواہ کی حد 22000 ابھی بھی موجود ہے،زیادہ سے زیادہ تنخواہ کی حد 22000 روپے مقرر رہنے سے قانونی و محکمانہ پیچیدگیوں کا سامنا ہے، جولائی 2022 سے ادا کی گئی سوشل سیکیورٹی شراکتوں کو درست قرار دینا ناگزیر ہے، ان ترامیم سے چوبیس ارب روپے کا نقصان روکا جائے گا۔ متن میں کہا گیا ہے کہ قانونی اصلاحات نہ ہونے کے باعث محکمانہ کارروائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
بعد از پیشگی بل 2 ماہ کے لئے کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا ۔کمیٹی کی منظوری کے بعد بل ایوان سے منظور ہو گا، بل کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔
پنجاب اسمبلی میں امن و امان پر عام بحث کا آغاز بھی کیا گیا، عام بحث کا آغاز پارلیمانی سیکرٹری خالد محمود رانجھا نے کیا۔