ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ: پولیس کو مغوی کی بازیابی کیلئے 2ہفتے کی مہلت

لاہور ہائیکورٹ: پولیس کو مغوی کی بازیابی کیلئے 2ہفتے کی مہلت
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں ایک سال سے مبینہ طور پر لاپتہ شہری کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مغوی کی بازیابی کیلئے دو ہفتوں کی مہلت دے دی اور واضح کیا کہ بازیابی نہ ہونے کی صورت میں آئی جی پنجاب کو خود پیش ہو کر وضاحت دینا ہوگی۔

 جسٹس فاروق حیدر نے شہری عثمان علی کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر ایڈیشنل آئی جی پنجاب عمران ارشد، آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد، ڈی آئی جی لیگل ملک اویس احمد، ڈی پی او گجرات رانا عمر فاروق اور ڈی پی او منڈی بہاؤالدین عبدالرحیم شیرازی سمیت دیگر پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب مدثر نوید چھٹہ نے آئی جی پولیس کی جانب سے رپورٹ پیش کی۔

 دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ تفتیش تبدیل ہونے کے بعد اب تک کیا پیش رفت ہوئی اور کیا انویسٹیگیشن مکمل ہو چکی ہے، جس پر لاء افسر نے بتایا کہ تفتیش ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی جبکہ ایڈیشنل آئی جی عمران ارشد نے بھی عدالت کو آگاہ کیا کہ مغوی تاحال بازیاب نہیں ہو سکا۔
عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہ معاملہ کافی عرصے سے زیر التواء ہے اور آئی جی کی رپورٹ میں خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔

 عدالت نے کہا کہ خاتون درخواست گزار کے مطابق اس کے بیٹے کو پولیس اہلکار لے کر گئے، جو ایک سنگین الزام ہے اور اگر پولیس پر الزام ہے تو شفاف تفتیش کیلئے کیس دوسرے ضلع یا رینج کو منتقل ہونا چاہیے تھا۔

 جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیئے کہ اگر محافظوں پر ہی الزام لگ جائے تو اس الزام کو صاف کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ صرف اختیار نہیں بلکہ ڈیوٹی ہے اور اس بارے میں سب کو جواب دہ ہونا ہے۔

 آر پی او گوجرانوالہ نے عدالت کو بتایا کہ مغوی مبینہ طور پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ افغانستان گیا تھا تاہم اس کی واپسی کے کوئی شواہد نہیں ملے، عدالت نے اس موقف پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور مزید مؤثر اقدامات کی ہدایت کی۔
عدالت نے ایڈیشنل آئی جی کو ہدایت کی کہ وہ خود اس معاملے کی نگرانی کریں اور آئی جی پنجاب کو مکمل صورتحال سے آگاہ کریں،عدالت نے حکم دیا کہ اگر دو ہفتوں میں مغوی بازیاب نہ ہوا تو آئی جی پنجاب خود عدالت میں پیش ہو کر وضاحت دیں۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 مارچ تک ملتوی کر دی،درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کے بیٹے علی حسن کو مبینہ طور پر پولیس اہلکار لے گئے تھے اور اس کی بازیابی کیلئے 10 دسمبر 2024 کو عدالت سے رجوع کیا گیا۔