ویب ڈیسک : نائیجیریا کی مسجد میں دھماکے سے 5 نمازی شہید جبکہ 35 زخمی ہیں ۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مسجد میں ہونے والا دھماکہ خودکش تھا ۔ مبینہ خودکش حملے میں شہید ہونے والے نمازیوں کی تعداد میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔
نائیجیریا کے شمال مشرقی شہر میدوگوری میں نماز کے دوران ایک مسجد میں دھماکا ہوا جو مبینہ طور پر خودکش حملہ تھا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نائیجیریا کی ریاست بورنو کی پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے خودکش جیکٹ کے مشتبہ ٹکڑے برآمد ہوئے ہیں۔تاہم اب تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ مسجد پر ہونے والے دھماکے کی نوعیت کیا تھی۔ تاحال تحقیقات جاری ہیں۔
مسجد میں دھماکا اُس وقت ہوا جب نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی جس کے باعث زخمیوں کی تعداد 35 سے زائد ہے اور 5 شہید ہوگئے۔ریسکیو ادارے نے زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردی گئی جہاں 7 زخمیوں کی حالت نازک جب کہ 5 کی تشویشناک ہے۔ شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ ماضی میں اس نوعیت کے خودکش حملوں کی ذمہ داری شدت بوکو حرام یا اس کا ایک دھڑا قبول کرتا آیا ہے۔ریاست کے گورنر باباگانا زولم نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بربریت اور غیر انسانی عمل قرار دیا اور تہواروں کے موقع پر عبادت گاہوں اور عوامی مقامات پر سکیورٹی بڑھانے کی اپیل کی۔
اگرچہ حالیہ برسوں میں خودکش حملوں میں کمی آئی مگر شدت پسند گروہ اب بھی ایسے حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سیکیورٹی آپریشنز نے 2021 سے 2023 کے دوران اس نئی تنظیم کو کمزور کردیا گیا جس سے حملوں میں کمی آئی تھی۔تاہم 2024 کے بعد سے اس تنظیم نے دوبارہ خود کو منظم کرنا شروع کیا اور ایک بار پھر خودکش حملوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔