ملک اشرف : ہائیکورٹ میں قصور ڈانس پارٹی کی ویڈیو وائرل کرنے کا کیس ، جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دئیے کہ زیر حراست ملزمان کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنا بھی ذہنی تشدد ہے،پراسیکیوٹر جنرل پنجاب ڈی پی او قصور سے معاملے پر تمام رپورٹ لیں،عدالت اس پر مناسب حکم جاری کرے گی ۔
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے وشال شاکر کی درخواست پر سماعت کی، پراسیکیوٹرجنرل سیدفرہادعلی شاہ سمیت دیگر افسران پیش ہوئے، جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیئے کہ ڈی آئی جی سپیشل برانچ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ایس ایچ او لڑکیوں کے چہروں پر ٹارچ ماررہا تھا، ایس ایچ او کے وکیل نے جواب دیا سابق ایس ایچ او نے نیک نیتی سے گرفتاری کی، جسٹس علی ضیاء باجوہ نےکہا لڑکیوں کے چہرے پر ٹارچ مارنے میں کونسی نیک نیتی ہے؟ ایڈیشنل آئی جی کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا کہ سارے واقعہ کا ذمہ دارایس ایچ او ہے، سابق ایچ ایس اوکےوکیل نے جواب دیا ڈی ایس پی نے حوالات میں جاکر ویڈیو بنائی تھی، ڈی ایس پی کے موبائل کا رزلٹ اچھا نہیں تھا، تو پھرایس ایچ او کا موبائل لیا گیا،ایس پی انویسٹی گیشن قصور نے بتایا کہ گزشتہ سماعت سے پہلے پولیس کے پاس ایس ایچ اومصطفی آباد کیخلاف کوئی ثبوت نہیں تھا، جسٹس علی ضیاء باجوہ نے کہا آپ نے کم ازکم 20 لڑکوں اور20 لڑکیوں کا مستقبل خراب کیا ہے۔