ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹیررسٹ آؤٹ فِٹ ٹی ایل پی قانوناً کالعدم ہو گئی

TLP Banned, Tahreek e Labaik, Terrorist outfit , Interior ministry
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  صوبہ پنجاب کی حکومت کی درخواست پر وفاقی کابینہ نے ٹی ایل پی کے نام سے دہشتگردی اور تشدد کی منظم کارروائیوں، فرقہ واریت اور فساد  کے سینکڑوں واقعات میں ملوث گروہ پر پابندی لگا دی ہے۔ اب یہ گروہ کالعدم ہو چکا ہے۔ اسے کالعدم کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں کوئی ریفرنس دائر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، حکومت ایسا کوئی ریفرنس نہیں بھیج رہی۔
اسلام آباد: تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پرپابندی کےلیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر نہ کرنےکافیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع وزارت داخلہ کے  ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ  انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کسی دہشتگرد گروہ، تنطیم، جماعت پر پابندی عائد کرنے کے لئے  سپریم کورٹ سے فیصلہ درکار نہیں ہوتا۔

وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے مطابق  دہشتگردی کی سرگرمیوں میں تسلسل کے ساتھ ملوث پائی جانے والی بظاہر مذہبی تنظیم ٹی ایل پی پرپابندی انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت لگائی گئی ہے نہ کہ آرٹیکل 17کے تحت۔

وزارت داخلہ نے تحریک  لبیک  (ٹی ایل پی)  کے نام سے کام کرنے والے  دہشتگرد گروپ کو کالعدم قرار دینے کا  نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

 ٹی ایل پی پر پابندی کا نوٹیفکیشن، اب یہ گروہ کالعدم ہے
 وفاقی کابینہ نے گزشتہ روز ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دی تھی جس کے بعد وزارت داخلہ نے اس گروہ پر پابندی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا۔

وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس ٹھوس وجوہات ہیں کہ ٹی ایل پی دہشتگرد سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ نوٹیفکیشن کے بعد ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے مطابق ٹی ایل پی کو فرسٹ شیڈول کے تحت کالعدم کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔

پابندی کا نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن سمیت تمام صوبوں اور متعلقہ اداروں کو بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔

پابندی عملاً نافذ کرنے کیلئے قانونی کارروائی کا آغاز
ٹی ایل پی پر پابندی کے لیے وزارت قانون نے بھی قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس گروہ سے متعلق تمام منقولہ، غیر منقولہ سامان، جائیداد، بینک اکاؤنٹس وغیر اب سرکار کی ملکیت ہیں۔ ایسے تمام سامان کو اب ضبط کیا جا رہا ہے۔

 چند روز قبل لبیک گروہ نے اپنی فطرت کے مطابق ایک بار پھر سڑکوں پر ننگی دہشتگردی کا آغاز کیا تھا جو کئی روز جاری رہی۔ لبیکی گروہ نے اس مرتبہ دہشتگردی کرنے کا وقت وہ چنا جب پاکستان پر افغانستان کی سرح پر ہزاروں کلومیٹر وسیع سرحد پر جنگ لگی ہوئی تھی۔ 

اس مکروہ دہشتگردی سے تو پنجاب پولیس نے کسی نہ کسی طرح نبٹ لیا، لیکن اس کے ساتھ وزیراعلیٰ مریم نواز کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ اب اس تشدد پرست دہشتگرد گروہ کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔  پنجاب کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دی اور اس کی سمری وفاقی حکومت کو ارسال کی تھی۔