علیم خان کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف درخواست پر سماعت

علیم خان کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف درخواست پر سماعت

ملک اشرف لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب کے سینئروزیر علیم خان کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی، الیکشن کمیشن نےعدالت کوتحریری فیصلے تک علیم خان کیخلاف سیشن کورٹ میں شکایت درج نہ کروانے کی یقین دہانی کروادی۔

لاہورہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے صوبائی وزیر علیم خان کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواستگزار کی جانب سےاظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئےجبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے لیگل ایڈوائزر میاں مرید حسین پیش ہوئے۔ لیگل ایڈوائزر نے کہا کہ سی آر پی سی 476 کے تحت بطور شہادت غلط بیان حلفی جمع کروانے پر الیکشن کمیشن کے پاس کارروائی کا اختیار ہے۔

درخواستگزار علیم خان کےوکیل نےموقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نے جعلی حلف نامہ جمع کرانے کےالزام پرکارروائی کا حکم دیا ہے۔

الیکشن  کمیشن نے اپنےاختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے خلاف قانونی حکم دیا۔ ریٹرنگ افسر کودی گئی درخواست مسترد ہونے کےباوجود الیکشن کمیشن نے ان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔

درخواستگزار وکیل کےمطابق مسلم لیگ ن کےرہنما سردار ایاز صادق نےالیکشن کمیشن کو درخواست دی۔ الیکشن کمیشن نے سیشن کورٹ میں شکایت درج کروانے کا حکم دیا۔ این اے 122 میں ہونے والے ضمنی انتخاب کوکالعدم قرار دینےکیلئے الیکشن کمیشن میں جعلی حلف نامہ جمع کروانے کا الزام  لگایا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے مخالف امیدوارکو سیشن کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا۔ درخواست گزار نےاستدعا کی کہ عدالت الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم  قرار دے۔

جسٹس جواد حسن نےریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سےجاری کئےگئے مختصر فیصلہ میں کوئی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔ جس پرالیکشن کمیشن کے لیگل ایڈوائزر نے یقین دہانی کروائی کہ ای سی پی کے تفصیلی تحریری فیصلے تک علیم خان کےخلاف کارروائی نہیں کریں گے۔

عدالت نےالیکشن کمیشن کےلیگل ایڈوائزر کی استدعا پر اسے تحریری جواب دینے کے لئے مہلت دیتے ہوئےسماعت ملتوی کردی۔

شازیہ بشیر

Content Writer