ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مصنوعی ذہانت (A I) نے عدالت میں انسانی وکیل کو شکست دیکر  کیس جیت لیا

مصنوعی ذہانت (A I) نے عدالت میں انسانی وکیل کو شکست دیکر  کیس جیت لیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) آرٹیفیشیل انٹیلی جنس ( A I) یا مصنوعی ذہانت نے قانون کے شعبے میں اپنا بڑا کمال کرکے سب کو حیران کر دیا۔ دنیا میں پہلی بار ’’اے آئی چیٹ بوٹ‘‘ نے عدالت میں انسانی وکیل کو شکست دے کر تقریباً 25لاکھ روپے کا کیس جیت لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سماعت برطانیہ میں ہوئی۔ وہاں اے آئی پاورڈ لا فرم نے انسانی وکیلوں کا مقابلہ کیا۔ ’گارفیلڈ اے آئی‘ نام کے لیگل چیٹ بوٹ نے 7 ہزار پاؤنڈ کا چھوٹا کیس جیت کر نئی لکیر کھینچ ہے۔ یہ لکیر اس مستقبل کی بنیاد کو مضبوط کر سکتی ہے جس میں اے آئی چیٹ بوٹ مضبوطی سے عدالت کی کارروائی میں حصہ لیں گے۔
بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آیا ہوگا کہ اے آئی کے کیس جیتنے پر اس نے کتنی فیس لی ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق ’گارفیلڈ اے آئی‘ نے ’تامیریس کمال تاکیدیر‘ نامی ایک فری لانس ایچ آر کا کیس لڑا۔ واضح رہے کہ برطانیہ میں قانونی لڑائی لڑنے کے لیے بھاری بھرکم فیس لگتی ہے۔ لیکن اے آئی نے یہ کام محض 400 پاؤنڈ  (برطانوی کرنسی) تقریباًایک لاکھ 47ہزار پاکستانی روپے میں کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق کیس جیتنے سے قبل ’گارفیلڈ اے آئی‘ نے قانونی کام خود سے مکمل کیا۔ کیس سے منسلک دستاویزات تیار کیے۔ پھر اس نے عدالت میں بحث کرنے کیلئے ایک انسانی جونیئر وکیل کی خدمات حاصل کیں۔ برطانیہ کی ’وینڈز ورتھ کاؤنٹی کورٹ‘ میں گزشتہ ماہ میں ہوئی سماعت کے دوران عدالت میں 3 گھنٹوں تک بحث چلی اور آخرکار فیصلہ گارفیلڈ اے آئی کے کلائنٹ کے حق میں آیا۔ وکلاء نے بعد میں قبول کیا کہ گارفیلڈ اے آئی نے جو ڈاکیومنٹ کیس لڑنے کیلئے تیار کئے وہ انتہائی درست اور بہترین تھے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کیس  ایک اے آئی چیٹ بوٹ نے جیتا ، لیکن اس کی اپنی حدود ہیں۔ اے آئی نے کیس فائل تو تیار کی لیکن عدالت میں جرح انسانی وکیل نے کی۔ گارفیلڈ ابھی صرف 10 ہزار پاؤنڈ تک کے دعووں سے منسلک کیس ہی لڑتا ہے۔ حالانکہ وہ کسی لا فرم کے مقابلے بہت کم فیس چارج کرتا ہے۔ دنیا میں پہلی بار جب سکی اے آئی وکیل نے انسانی وکلاء کی مخالفت کے باوجود کیس جیتا ہے۔
یاد رہےکہ عدالتی کیسوں میں اے آئی کا شامل ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ امریکہ میں پہلے سے ہی اس پر کام ہو رہا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک میں عدالتی کیسوں میں اے آئی ٹولز کی مدد لی جانے لگی ہے، لیکن عدالتی کارروائی تک اے آئی کا پہنچنا اور اپنے بالکل درست دستاویزات کے ذریعے کیس جیتنا ایک نئی شروعات ہے۔

واضح رہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (Artificial Intelligence) یا مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر سائنس کی وہ شاخ ہے جس کا مقصد ایسی مشینیں اور سافٹ ویئر تیار کرنا ہے جو انسانوں کی طرح سوچنے، سمجھنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، یہ ٹیکنالوجی خود کار طریقے سے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے فیصلے کرتی ہے۔