ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا شناختی کارڈ کے اجراء کے متعلق اہم فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ کا شناختی کارڈ کے اجراء کے متعلق اہم فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : شناختی کارڈکے اجراء اورشہریت کے تنازع پرمثالی فیصلہ،ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ شہریت کے تعین سے متعلق معاملات میں براہ راست سول عدالتوں سے رجوع نہیں کیا جا سکتا اور ایسے تنازعات پہلے نادرا اور متعلقہ قانونی فورمز کے سامنے اٹھائے جائیں گے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے نادرا کی جانب سے دائر سول رویژن درخواست منظور کرتے ہوئے 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر کے طور پر بھی منظور کیا گیا ہے۔ عدالت نے خالدخان اورایک اور شہری کے حق میں سیشن اور سول عدالتوں کے وہ فیصلے کالعدم قرار دیدیئے، جن میں نادرا کو شناختی کارڈ جاری کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی شخص کی شہریت یا قومی حیثیت مشکوک قرار دی جائے تو اس معاملے کا فیصلہ سب سے پہلے نادرا کے مقررہ فورمز اور وفاقی حکومت کے تحت قائم قانونی نظام کے ذریعے کیا جائے گا۔

عدالت نے واضح کیا کہ شہریت کے تعین سے متعلق معاملات پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ1951 اورنادرا آرڈیننس 2000 کے تحت طے ہونگے اوران قوانین میں فراہم کردہ متبادل قانونی راستے اختیار کیے بغیر سول عدالتوں سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مشکوک شہریت کے مقدمات میں درخواست گزاروں پر لازم ہوگا کہ وہ 1979ء سے قبل کے مستند دستاویزی شواہد پیش کریں، جن میں پرانے قومی شناختی کارڈ، ڈومیسائل، تعلیمی اسناد، پاسپورٹ، سرکاری ملازمت کے ریکارڈ یا دیگر سرکاری دستاویزات شامل ہو سکتی ہیں۔ فیصلے میں نادرا ویریفکیشن بورڈ کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسے تمام زیر التوا مقدمات کو60 روز کے اندر نمٹایا جائے اور متاثرہ شہریوں کو مکمل حقِ سماعت فراہم کیا جائے۔

Ansa Awais

Content Writer