ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مغوی بازیابی کیس؛عدالت کا ملزم کے سابقہ ریکارڈ سے متعلق غلط بیانی پر اظہار برہمی

مغوی بازیابی کیس؛عدالت کا ملزم کے سابقہ ریکارڈ سے متعلق غلط بیانی پر اظہار برہمی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائی کورٹ میں مغوی کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد کی جانب سے ملزم کے سابقہ ریکارڈ سے متعلق غلط بیانی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور پولیس سے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کر لی۔

جسٹس تنویر احمد شیخ نے سائلہ عالیہ شہزادی کی درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد، سی پی او گوجرانوالہ ڈاکٹر غیاث گل اور پنجاب حکومت کے لاء افسر عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت عدالت کے سامنے یہ بات آئی کہ ایف آئی آر میں ملزم کی عمر 25 سے 27 سال درج ہے جبکہ ضمنی بیان میں عمر 45 سے 50 سال لکھی گئی۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ درخواست گزار کے مطابق گرفتار شخص کی اصل عمر 59 سال ہے جبکہ ریکارڈ کے مطابق ملزم کی عمر 47 سال بھی بتائی جا رہی ہے۔جسٹس تنویر احمد شیخ نے ریمارکس دیئے کہ 25، 45 اور 50 سال کی عمر میں واضح فرق ہوتا ہے، اس تضاد کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

 عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم سے موٹر سائیکل کب برآمد ہوئی، جس پر سی پی او ڈاکٹر غیاث گل نے بتایا کہ چوری شدہ موٹر سائیکل 3 فروری کو برآمد کی گئی۔سماعت کے دوران آر پی او خرم شہزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سابقہ ریکارڈ یافتہ ہے اور اس کے خلاف نو مقدمات درج ہیں، تاہم اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ایک مقدمے میں ڈسچارج اور باقی مقدمات میں بری ہو چکا ہے۔اس پر عدالت نے آر پی او سے مکالمہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر ملزم بری ہو چکا ہے تو کیا اسے سابقہ ریکارڈ یافتہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ آر پی او نے تسلیم کیا کہ ایسی صورت میں ملزم کو سابقہ ریکارڈ یافتہ نہیں کہا جا سکتا۔

 عدالت نے آر پی او سے ان کی تعلیم کے بارے میں بھی استفسار کیا، جس پر انہوں نے بتایا کہ وہ ایم فل ان انٹرنیشنل ریلیشنز ہیں۔عدالت نے متعلقہ ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کے بارے میں بھی استفسار کیا ، جس پر سی پی او ڈاکٹر غیاث گل نے بتایا کہ ایس ایچ او کو میجر محکمانہ سزا دی گئی ہے اور اس کی دو سالانہ ترقیاں روک دی گئی ہیں۔عدالت نے پولیس کے مؤقف اور ریکارڈ میں تضادات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گوجرانوالہ پولیس کو آئندہ سماعت پر تفصیلی پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔