عرفان ملک: ملک بھر میں مبینہ جعلی کال سینٹرز کی سرگرمیوں کے باعث پاکستان کی ساکھ متاثر ہونے کے معاملے پر این سی ای آئی اے نے بڑے پیمانے پر کارروائی کی تیاری شروع کردی ہے۔
کال سینٹرز کی قانونی حیثیت اور سرگرمیوں کی جانچ کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹاسک فورس میں پی ٹی اے سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے افسران شامل ہوں گے، جبکہ این سی ای آئی اے سائبر جرائم کے سدباب کے لیے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون مزید بڑھائے گی۔
ٹاسک فورس کال سینٹرز کے قیام، رجسٹریشن، قانونی حیثیت اور ان کی جانب سے کی جانے والی سرگرمیوں کا جائزہ لے گی۔ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے کال سینٹرز کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کی مشاورت سے ٹاسک فورس کے ٹی او آرز کو حتمی شکل دی جائے گی۔ کال سینٹرز کی سرگرمیوں اور قانونی حیثیت کی مکمل جانچ کے بعد کریک ڈاؤن کا آغاز کیا جائے گا۔
کال سینٹرز کی انتظامیہ کو موصول ہونے والی رقوم اور ان سے منسلک کرپٹو اکاؤنٹس کی بھی مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ غیر قانونی مالی سرگرمیوں کا سراغ لگایا جاسکے۔