ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 روسی تیل کی درآمدات:امریکا کی بھارت کو پھر تنبیہ، سنجیدگی دکھانے کا مطالبہ  

 روسی تیل کی درآمدات:امریکا کی بھارت کو پھر تنبیہ، سنجیدگی دکھانے کا مطالبہ  
کیپشن: File photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(  ویب ڈیسک )سابق امریکی سفیر برائے اقوام متحدہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن ساتھی نکی ہیلی نے بھارت کو روسی تیل کی درآمدات پر سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی کو اس مسئلے پر جلد از جلد وائٹ ہاؤس کے ساتھ کوئی حل نکالنا چاہیے۔

   سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں نکی ہیلی نے کہا کہ بھارت کو روسی تیل پر ٹرمپ کے مؤقف کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور وائٹ ہاؤس کے ساتھ مل کر راستہ نکالنا ہوگا۔ جتنی جلدی  اتنا بہتر ہے ۔

 یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی اُس وقت بڑھی جب ٹرمپ انتظامیہ نے روسی تیل کی خریداری پر بھارت پر ثانوی محصولات عائد کیے۔

  ہیلی نے اس سے قبل  ایک تحریر میں خبردار کیا تھا کہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات ’ٹوٹنے کے قریب‘ ہیں۔

 ان محصولات کی شرح 50 فیصد سے زائد بتائی جا رہی ہے، جو اب تک ٹرمپ حکومت کی جانب سے سب سے بھاری قرار دیے جا رہے ہیں۔

 اس کے ساتھ ہی بھارت نے امریکا کے اس فیصلے کو ’غیر منصفانہ اور غیر ضروری‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

 قبل ازیں نکی ہیلی نے اپنے مضمون اور بیانات میں اس بات پر زور دیا کہ امریکا اور بھارت کو اپنے اصل مقصد، یعنی چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

  ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اصل اہمیت ہماری مشترکہ ترجیحات کی ہے۔ چین کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کو بھارت جیسا دوست درکار ہے۔

 ہیلی نے اس سے قبل ایک تحریر میں خبردار کیا تھا کہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات ’ٹوٹنے کے قریب‘ ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ اگر امریکا چین کو محدود کرنے کا ہدف رکھتا ہے تو اسے بھارت کے ساتھ تعلقات کو ہر حال میں بحال اور مضبوط بنانا ہوگا۔