ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

محکمہ زراعت و لائیو سٹاک کی کارکردگی اور آئندہ مالی سال کے بجٹ پر اہم اجلاس

محکمہ زراعت و لائیو سٹاک کی کارکردگی اور آئندہ مالی سال کے بجٹ پر اہم اجلاس
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

راو دلشاد: سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت محکمہ زراعت و لائیو سٹاک کی کارکردگی اور آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے ویژن کے تحت محکمہ زراعت کی 35 جاری سکیموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ کسانوں کے لیے شروع کی گئی 8 خصوصی اسکیموں پر پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا گرین ٹریکٹر پروگرام شروع کیا جا چکا ہے، جس کے تحت قرعہ اندازی کے ذریعے 22 ہزار ٹریکٹرز کسانوں کو سبسڈی پر فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سموگ کے تدارک کے لیے کسانوں میں 6000 سپر سیڈرز بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کسانوں کی معاونت کے لیے اب تک 8 لاکھ 10 ہزار کسان کارڈز جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ زراعت کے شعبے میں نجی شعبے کے ساتھ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایگرو پراسیسنگ کے جدید یونٹس قائم کیے جائیں گے تاکہ فصلوں کو خام مال کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی شکل میں مارکیٹ میں لایا جا سکے۔

اجلاس میں زرعی گوداموں کے نیٹ ورک، لاجسٹکس اور کولڈ چین سسٹم کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کے ذریعے توانائی کے اخراجات میں کمی لانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

مزید برآں ماڈل ایگریکلچر مالز کے قیام پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا جہاں ایک ہی چھت تلے بیج، کھاد، زرعی مشینری اور فنی مشاورت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

مریم اورنگزیب نے ہدایت کی کہ سٹبل برننگ سیزن سے قبل ہارویسٹرز کی تعداد کو دوگنا کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ زراعت کی 14 سکیمیں آئندہ مالی سال کے دوران مکمل کر لی جائیں گی۔

اجلاس میں تھل کے علاقے کے لیے کلائمیٹ ریزیلینٹ ایگریکلچر پروگرام اور دودھ و گوشت کی پیداوار بڑھانے کے لیے تین سالہ منصوبے کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔