نامورماڈل اداکارہ مومنہ اقبال اور ن لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ ہراسگی کیس میں اب تک کی پیش رفت کے مطابق سارا معاملہ تیسرے شخص کی وجہ سے خراب ہوا، مومنہ اقبال کے ہونے والے شوہر محمد حمزہ حبیبی نے مومنہ کے موبائل فون میں ثاقب چدھڑ اور مومنہ اقبال کی ویڈیو دیکھی جس کے بعد حمزہ حبیبی نے ثاقب چدھڑ کو فون کرکے قتل کرنے کی دھمکیاں دیں ۔
اس فون کال کی وجہ سے معاملات اتنے خراب ہوگئے کہ دونوں اطراف سے پہلے ایک دوسرے کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی اور پھر معاملہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی تک پہنچ گیا ، مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کے درمیان تصادم کی وجہ تیسرا شخص بنا، جس کی وجہ سے نوبت یہاں تک آن پہنچی .
ثاقب چدھڑ اورمومنہ اقبال ایک دوسرے پرسنگین نوعیت کے الزامات لگا رہے ہیں، مومنہ کا کہنا ہے کہ ثاقب کی پہلے سے دو شادیاں تھیں جبکہ ثاقب چدھڑ کہتے ہیں جب مومنہ کی پہلی شادی (جو ناکام ہو چکی تھی) اور کچھ دیگر باتیں ان کے علم میں آئیں تو شادی کا پلان ٹوٹ گیا اور تعلقات کو بریک لگ گئی جس کے بعد تقریبا ایک سال سے دونوں کا آپس میں رابطہ منقطع تھا۔ پھرمومنہ اقبال نے کسی اور جگہ منگنی کرلی اور شادی طے ہوگئی تو مومنہ اقبال کے ہونے والے شوہر حمزہ حبیبی کی بے وقوفی نے دونوں کے درمیان ایسی آگ لگائی کہ دونوں بغیر سوچے سمجھے ایک دوسرے کے خلاف اتنا پھٹ پڑے کہ سائبر بُلنگ، قتل کی دھمکیاں ، مہنگی گاڑی ، ڈیفنس فلیٹ ، مالی فائدہ اٹھانا، اور نجی مواد لیک کرنے جیسے الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا.
ہمیشہ جذباتی دھوکہ جسمانی دھوکے سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے کیونکہ یہ دل اور ذہن کی قربت توڑ دیتا ہے۔ اور اس کیس میں بھی ایسا ہوا فریقین کے درمیان تیسرے شخص کی وجہ سے معاملہ پچیدہ ہوگیا ۔جس کا فائدہ تیسرے شخص (محمد حمزہ حبیبی ) کو ہو یا نہ ہو لیکن ان دونوں کے ماتھے پر ایسی کالک لگ گئی جو قبر تک دونوں کا پیچھا نہیں چھوڑے گی ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اس معاشرے پر ایسے منفی اثرات پڑیں گے جس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے۔
ایسے ذاتی تنازعات کو ضرورت سے زیادہ میڈیا (ٹی وی، سوشل میڈیا، یوٹیوب) پر سنسنی خیز انداز میں پیش کرنے سے گریز کرنا چاہے کیونکہ ریٹنگز اور ویوز کے لیے نجی چیٹس، تصاویر، الزامات اور افواہیں بغیر تصدیق کے نشر کی جاتی ہیں۔ جس سے نوجوان نسل ، رشتوں، محبت اور شادی کو بے اعتماد اور خطرناک سمجھنے لگتی ہے ۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ لوگوں میں سیاسی اثر و رسوخ والوں کے خلاف آواز اٹھانے میں خوف بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ جب ایک ذاتی معاملہ تفریح بن جائے تو معاشرے کی اخلاقیات، اعتماد اور عدل کی بنیاد کمزور ہوجاتی ہے۔
مومنہ اقبال کیس میں اب تک کی سب سے اہم چیز جان سے مارنے کی دھمکی اور بلیک میلنگ ہے - اگر مومنہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہےتو ثاقب چدھڑ پر بڑا مضبوط کیس بن سکتا ہے ۔ اور دوسری طرف اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کروڑوں روپے یا دیگر مراعات دی ہیں تو کیا الیکشن کمیشن میں ان کے اثاثے ، ذرائع آمدن اور ٹیکس ریٹرن میں اگر تضاد ہے تو انکے لیے نئی مشکل کھڑی ہو جائے گی۔ کیونکہ ہمارے ہاں ٹیکس ریٹرن ایسی چیز ہے جس میں لوگ اپنی غربت ثابت کرتے ہیں اور سب سے اہم بات چدھڑ صاحب نے خود اداکارہ سے ’’قریبی‘‘ مراسم رکھنے کا اعتراف کیا ہے۔ تو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت وہ نااہل ہوسکتے ہیں ۔ اب دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے کیونکہ پاکستان میں کرپشن اور سیاسی اثرورسوخ جیسے مسائل کی وجہ سے طاقتور لوگوں کے خلاف کیسز اکثر "سازش" قرار دے دیے جاتے ہیں۔