ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے واٹر میٹرز کی تصنیب اگلے مالی سال کے دوران ہر صورت یقینی بنا نے جبکہ فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے فصلوں کی باقیات کو لگنے والی آگ کو روکنے کے حوالے سے پالیسی کے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے۔
جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کے متعلق کیس کی سماعت کی ، ممبر ماحولیاتی کمیشن نے فصلوں کی باقیات کو لگنے والی آگ کے متعلق رپورٹ پیش کی ، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کہ محکمہ زراعت کچھ نہیں کررہا ، فصلوں کی باقیات کو لگنے والی آگ کو ہر کوئی رپورٹ کررہا ہے، لیکن سیکرٹری زراعت کچھ نہیں کررہا ، فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے والوں کے ٹیوب ویل سیل اور بجلی کنکشن کاٹے جاسکتے ہیں ، محکمہ زراعت اور ماحولیات اس کے متعلق آئندہ ہفتے جامع رپورٹ پیش کریں ،محکمہ زراعت تو مکمل سو رہا ہے، محکمہ ماحولیات کے پاس فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے والوں کے خلاف کاروائی کے مکمل اختیار ہیں۔
واسا کے وکیل نے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کی تاریخ اور واٹر میٹرز کے متعلق رپورٹ پیش کی ، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کہ عدالت کو ہر سماعت ہر واٹر میٹر لگانے کے حوالے سے رپورٹ پیش کی جائے ، واسا اچھا کام کررہا ہے، لیکن اس کی ہر ہفتے رپورٹ انی چاہیے ، واسا کے وکیل کے پاس واٹر میٹرز کے حوالے سے مکمل تفصیل نہیں ، مکمل تفصیل لے کر آئیں ، ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز نے قصور ٹنریز کے ویسٹ واٹرز ٹریٹمنٹ پلانٹ کے حوالے سے بتایا،جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کمشنر صاحب نے جو بھی کرنا ہے ، کریں ، مگر ٹریٹمنٹ پلانٹ چلائیں، فنڈز نہیں ہیں تو عدالت کو بتائیں ، ایک سال کے اندر اسے ہر صورت چلانا ہے، کمشنر آلودگی کا باعث بننے والی ٹنریز کو بند کرنا پڑے تو ان کو بند کردیں ، قصور میں ٹنریز کا مستقل حل نکالنا ہے۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ ، پنجاب حکومت کے اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل پیش ،، ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز , پرنسپل ایم اے او کالج ڈاکٹر عالیہ رحمان خان ،سیکرٹری ماحولیاتی کمیشن فرحان سعید شیخ ، سرکاری وکیل و دیگر محکموں کے نمائندے پیش ہوئے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 مئی تک ملتوی کردی ۔