ویب ڈیسک: کئی ہفتوں کے شدید غذائی بحران کے بعد غزہ میں بالآخر 90 امدادی ٹرکوں کا داخلہ ممکن ہو سکا۔ اقوام متحدہ نے امدادی قافلے کی غزہ میں آمد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مارچ کے بعد یہ پہلی بڑی انسانی امداد ہے جو غزہ پہنچی ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق غزہ میں خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت ہے اور لاکھوں افراد قحط جیسی صورتحال سے دوچار ہیں۔ امدادی ٹرکوں کی آمد کو اگرچہ ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے تاہم موجودہ ضروریات کے تناظر میں یہ ناکافی ہے۔
ادھر اسرائیلی افواج کی جاری بمباری کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 93 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں جس سے علاقے میں اموات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے عقربا گاؤں میں یہودی آبادکاروں نے فلسطینی املاک پر حملہ کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق آبادکاروں نے کئی گھروں اور املاک کو نذر آتش کیا اور ایک مسجد میں نمازیوں کی موجودگی کے دوران آگ لگانے کی کوشش بھی کی جس پر مقامی افراد نے بروقت مزاحمت کی۔
انسانی حقوق کے اداروں نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ اور مغربی کنارے میں جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔