ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت؛ مندر میں کروڑوں کانذرانہ، سونے اور چاندی کی بھی بارش

بھارت؛ مندر میں کروڑوں کانذرانہ، سونے اور چاندی کی بھی بارش
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : کرناٹک کے ضلع رائچور میں واقع راغویندر سوامی ٹیمپل میں عقیدت مندوں کی جانب سے ایک حیران کن نذرانہ پیش کیا گیا، ایک ماہ کے دوران لاکھوں زائرین نے اس مرکز کا رخ کیا اور اپنی عقیدت کے اظہار کے طور پر 3 کروڑ 48 لاکھ 69 ہزار روپے سے زیادہ نزرانہ پیش کیا ، اس موقع پر 32 گرام سونا اور 1.24 کلوگرام چاندی بھی عطیہ کی گئی۔

 یہ نذرانہ سوامی راغویندر کی پیدائش کی سالگرہ کے موقع پر چڑھایا گیا، جو ایک 16ویں صدی کے معروف شخصیت تھے۔ ان کی تعلیمات اور روحانی خدمات کے سبب عقیدت مند بڑی تعداد میں ہر سال ان کے ٹیمپل کا رخ کرتے ہیں۔

 عطیات کی گنتی کے مناظر پر مشتمل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں 100 سے زائد پجاری نذرانے کی گنتی کرتے نظر آ رہے ہیں۔

 گزشتہ سال، برطانیہ کے سابق وزیرِاعظم رشی سونک اور ان کی اہلیہ اکشتا مورتی نے بھی بنگلورو میں واقع راغویندر سوامی مٹھ نے ٹیمپل کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر انفوسس کے شریک بانی نارایانا مورتی اور راجیہ سبھا کی رکن سدھا مورتی بھی اپنی بیٹی اور داماد کے ساتھ موجود تھیں۔ ان کا خاندان مندر میں آرتی ادا کرتا ہوا بھی نظر آیا۔

 یہ واقعہ اس بات کا مظہر ہے کہ روحانی عقیدت اور مذہبی وابستگی کس طرح معاشرے میں ایک اہم مقام رکھتی ہے، اس طرح کے نذرانے اس امر کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ لوگ اپنی روحانی وابستگی کے اظہار کے لیے بڑے پیمانے پر عطیات دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

 نذرانوں کے حوالے سے پاکستان میں بھی مزارات پر نذرانہ پیش کرنے کی روایت صدیوں پرانی ہے، اور آج بھی لاکھوں عقیدت مند مختلف درگاہوں اور مزارات پر حاضری دے کر نذرانے چڑھاتے ہیں، تاہم اس عمل کے بارے میں ہمیشہ دو مختلف نظریات رہے ہیں، کچھ لوگ اسے ایک مستحسن عمل سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔