ویب ڈیسک: انگلینڈ میں نسل پرستی، مسلمانوں اور تارکینِ وطن مخالف جذبات ایک بار پھر قومی بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا میں ایک32سالہ شخص کے مبینہ نفرت انگیز حملے، بیلفاسٹ میں تارکینِ وطن مخالف فسادات اور امیگریشن کے خلاف سخت بیانات نے ملک میں سماجی تناؤ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو اجاگر کیا ہے۔
بھارت کے ایک بڑے اردو اخبار کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں نسل پرستی، اسلاموفوبیا اور تارکینِ وطن مخالف جذبات کے حوالے سے تشویش ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جب اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا میں19جون کو ہونے والے ایک مبینہ نفرت انگیز حملے میں5 افراد زخمی ہو گئے، جن میں کئی مسلمان شامل تھے۔ پولیس کے مطابق 32 سالہ سفید فام اسکاٹش مشتبہ شخص نے مختلف مقامات پر سلسلہ وار حملے کیے، جن میں 22 سے39سال کی عمر کے 5 افراد زخمی ہوئے۔ بعض زخمی افراد کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ مسجد سے باہر نکلنے کے فوراً بعد نشانہ بنے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے مبینہ طور پر مسلم مخالف نعرے لگائے اور حملوں کے دوران چاقو یا کلہاڑی نما ہتھیار استعمال کیا۔ بعض گواہوں نے دعویٰ کیا کہ اسے مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز جملے کہتے ہوئے سنا گیا۔انسداد دہشت گردی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ واقعے کی تحقیقات ممکنہ مسلم مخالف نفرت انگیز جرم کے طور پر کی جا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب برطانیہ میں امیگریشن، مذہبی شناخت اور سماجی ہم آہنگی سے متعلق مباحثے پہلے ہی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق موجودہ سیاسی ماحول بعض حوالوں سے 1960 کی دہائی میں کنزرویٹو سیاست دان اینوک پاول کی متنازع ’’ریورز آف بلڈ‘‘ تقریر کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کی یاد دلاتا ہے۔ ایڈنبرا کا واقعہ شمالی آئرلینڈ کے شہر بیلفاسٹ میں حالیہ فسادات کے چند روز بعد پیش آیا۔ یہ فسادات ایک مقامی شخص پر مبینہ چاقو حملے کے بعد شروع ہوئے، جس میں ایک سوڈانی شہری پر قتل کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد تارکینِ وطن مخالف مظاہرے پرتشدد فسادات میں تبدیل ہو گئے۔ نقاب پوش افراد نے متعدد گاڑیوں اور گھروں کو نذرِ آتش کیا جبکہ بعض علاقوں میں نسلی اقلیتوں اور تارکینِ وطن خاندانوں کو براہِ راست نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ متعدد خاندانوں کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔
اسی دوران برطانیہ میں ایک اور مقدمہ بھی شدید بحث کا موضوع بنا رہا، جس میں بھارتی نژاد سکھ شہری وکرم ڈگوا کو جنوبی انگلینڈ میں ایک نوجوان کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس مقدمے سے متعلق وائرل ویڈیوز اور سوشل میڈیا مباحثے نے امیگریشن اور جرائم کے موضوع پر پہلے سے موجود تقسیم کو مزید نمایاں کیا۔ دریں اثنا، امیگریشن مخالف سیاسی بیانیے نے بھی توجہ حاصل کی ہے۔ ریسٹور برٹین پارٹی کے لیڈر اور گریٹ یارموتھ سے رکنِ پارلیمان روپرٹ لو مسلسل سخت امیگریشن پالیسیوں کی وکالت کر رہے ہیں۔ انہوں نے متعدد مواقع پر بڑے پیمانے پر ملک بدری کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’لاکھوں لوگوں کو جانا چاہیے۔‘‘ ان کا مؤقف ہے کہ برطانیہ کو غیر قانونی تارکینِ وطن کے لیے ایک ’’مخالف ماحول‘‘ بنانا چاہیے اور قومی شناخت و ثقافت کو امیگریشن سے متعلق معاشی دلائل پر فوقیت دینی چاہیے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ایک حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں روپرٹ لو نے پاکستانی اور ہندوستانی تارکینِ وطن سے متعلق متنازع بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان افراد کو برطانیہ میں روزگار کیلئے لانے کے خلاف ہیں، جو ان کے بقول مقامی بیروزگار برطانوی شہری انجام دے سکتے ہیں۔ان بیانات پر شدید تنقید ہوئی اور ناقدین نے انہیں نسل پرستانہ قرار دیا جبکہ انکے حامیوں نے اسے امیگریشن سے متعلق حقیقی عوامی خدشات کا اظہار قرار دیا۔ امیگریشن مخالف حلقوں کی جانب سے حالیہ برسوں میں ’’گرومنگ گینگ‘‘ اسکینڈلز کو بھی بار بار سیاسی بحث کا حصہ بنایا گیا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات کو عمومی طور پر مخصوص نسلی یا مذہبی برادریوں سے جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے، جس سے معاشرتی کشیدگی بڑھتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ایکس پر ان مباحث کو مزید تقویت ملی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں خالص ہجرت 2023میں تقریباً94 لاکھ چار ہزار تک پہنچ گئی تھی، جس کے بعد اس میں کمی کا رجحان دیکھا گیا۔ تاہم امیگریشن اب بھی ملکی سیاست کے اہم ترین موضوعات میں شامل ہے۔ بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی ہجرت نے رہائش، صحت، تعلیم اور روزگار جیسے شعبوں پر دباؤ بڑھایا ہے جبکہ دوسرے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مہنگائی، رہائشی بحران اور معاشی مشکلات کو صرف تارکینِ وطن سے جوڑنا حقائق کا مکمل عکس نہیں۔
برطانیہ میں نسلی کشیدگی اور امتیازی سلوک کی تاریخ ایک صدی سے زیادہ پر محیط ہے۔ 1919 میں بندرگاہی شہروں میں سیاہ فام اور ایشیائی بحری کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 1958 کے نوٹنگ ہل فسادات اور ناٹنگھم میں ہونے والی بدامنی نے نسلی تناؤ کو نمایاں کیا۔ 1970کی دہائی میں انتہائی دائیں بازو کی تنظیموں کے عروج کے دوران جنوبی ایشیائی برادریوں پر حملوں میں اضافہ ہوا۔1980 کی دہائی میں برکسٹن، ٹوکسٹیتھ اور براڈ واٹر فارم کے فسادات نے پولیس اور اقلیتی برادریوں کے تعلقات پر سوالات اٹھائے جبکہ1993 میں سیاہ فام نوجوان اسٹیفن لارنس کے قتل کی تحقیقات نے میٹروپولیٹن پولیس میں ادارہ جاتی نسل پرستی کے الزامات کو نمایاں کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ حالیہ برسوں میں بھی امیگریشن اور شناخت کے موضوعات پر کشیدگی برقرار رہی ہے۔ 2024میں ساؤتھ پورٹ میں چاقو حملے کے بعد جھوٹی آن لائن معلومات نے بڑے پیمانے پر فسادات کو جنم دیا، جن میں مساجد، پناہ گزینوں کی رہائش گاہوں اور اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات کے دوران1800ے زائد افراد گرفتار ہوئے جبکہ سینکڑوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ جبکہ2025 میں بھی پناہ گزینوں کے ہوٹلوں کے باہر احتجاجی مظاہروں، مسلمانوں اور سکھوں پر حملوں، اور مختلف امیگریشن مخالف ریلیوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی تقسیم کو اجاگر کیا۔
اس معاملے پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ اس وقت امیگریشن، قومی شناخت اور سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ ناقدین کے مطابق بعض سیاسی جماعتیں اور شخصیات سماجی تقسیم کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جبکہ ان کے حامیوں کا اصرار ہے کہ وہ صرف عوامی خدشات کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ بہرحال، برطانوی معاشرے کے وسیع حلقے اب بھی اقلیتوں اور تارکینِ وطن کے خلاف تشدد اور نفرت انگیز جرائم کی مذمت کرتے ہیں، جبکہ ملک میں ایک جامع، متوازن اور سیاسی طور پر قابلِ قبول امیگریشن پالیسی کی تلاش بدستور جاری ہے۔