(ویب ڈیسک) زمین کےسب سے بڑے اور گہرے سمندر بحر الکاہل (Pacific Ocean)میں ایک بہت مضبوط ال نینو بننے کا عمل تیز ہوتا جا رہا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مغربی بحر الکاہل کی حالت 1997 جیسے بڑے ال نینو سے ملتی جلتی ہے۔ ال نینو کا اثر محض سمندر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری دنیا پر پڑے گا۔مون سون کمزور ہوا تو اس کا اثر تقریباً 4 ٹریلین ڈالر والی بھارت کی معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے۔
امریکن خلائی ایجنسی ناسا کے ایک سیٹلائٹ نے سمندر کی سطح پر بڑھی ہوئی گرمی کو ریکارڈ کیا ہے۔ ناسا کے سینٹینل-6 مائیکل فریلچ سیٹلائٹ سے ملے ڈیٹا سے پتہ چلا ہے کہ خط استوا کے پاس سمندر کی سطح معمول سے زیادہ اونچی ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ سمندر کے نیچے بڑی مقدار میں گرم پانی جمع ہو رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بحرالکاہل کے کچھ حصوں میں جب درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہو جاتا ہے اور سمندر کی سطح اوپر اٹھتی ہے تو اسے ال نینو کہا جاتا ہے۔ امریکہ کی موسم و سمندر سے منسلک ایجنسی ’این او اے اے‘ نے 11 جون کو ال نینو کے آغاز کی جانکاری دی تھی۔ سمندر کی سطح بڑھنے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ نیچے کتنی گرمی جمع ہے، کیونکہ گرم پانی پھیلتا ہے اور سطح اوپر اٹھ جاتی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مغربی بحر الکاہل کی حالت 1997 جیسے بڑے ال نینو سے ملتی جلتی ہے۔1997 میں ایک بہت طاقتور ال نینو کا سامنا ہوا تھا،جسے ’گوڈزیلا ال نینو‘ کہا گیا تھا۔ اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا ال نینو لگاتار مضبوط ہو رہا ہے اور آنے والے وقت میں یہ بہت بڑا اثر ڈال سکتا ہے۔ ناسا کی لیب نے سیٹلائٹ ڈیٹا سے سمندر کا ایک نقشہ بھی بنایا ہے۔ اس میں 8 جون کی حالت کو دکھایا گیا ہے۔ اس میں لال رنگ ان مقامات کو ظاہر کرتا ہے جہاں سمندر کی سطح زیادہ ہے، سفید رنگ معمول والی حالت اور نیلا رنگ کم سطح کا مظہر ہے۔ اسی سیٹلائٹ نے پہلے گرم پانی کی بڑی لہروں کو بھی ریکارڈ کیا تھا، جو سمندر میں سینکڑوں میل تک پھیلتی ہیں۔
اس حوالے سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ال نینو کا اثر محض سمندر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری دنیا پر پڑے گا۔ موسم سے منسلک اداروں کا کہنا ہے کہ اس سے کئی ممالک میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہو جائے گا۔ یہ گزشتہ 150 سالوں میں سب سے مضبوط ال نینو میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ اس سے گرمی بڑھے گی اور بارش کے پیٹرن میں تبدیلی آئے گی۔ اس تبدیلی کا بھارت پر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔پہلے سے ہی گرمی کا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے اور اگر مون سون کمزور ہوا تو اس کا اثر تقریباً 4 ٹریلین ڈالروالی بھارتی معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے۔