پنجاب یونیورسٹی کا طلباء کیلئے ریلیف پیکج

پنجاب یونیورسٹی کا طلباء کیلئے ریلیف پیکج

( اکمل سومرو ) پنجاب یونیورسٹی کا بڑا فیصلہ، طلباء کی میڈیکل فیس، ٹرانسپورٹ فیس اور لائبریری فیس ختم کرکے طلباء کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کیا گیا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی نے طلباء کو ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے اس ضمن میں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے فیسوں میں کٹوتیاں کرنے کی با ضابطہ پالیسی بتا دی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی نے طلباء سے فیسوں کی مد میں سپورٹس فیس، ہاسٹل چارجز، لیبارٹری چارجز بھی ختم کر دیے ہیں۔ 

آن لائن کلاسز کے دوران طلباء سے صرف ٹیوشن فیس وصول کی جائے گی۔ وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد اختر کا کہنا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی نے ہمیشہ کی طرح پرو سٹوڈنٹس پالیسی اپنائی ہے اور یونیورسٹی اپنے طلباء پر غیر ضروری مالی دباو نہیں ڈالے گی۔

 وائس چانسلر کی جانب سے فیس سیکشن اور تمام شعبہ جات کے سربراہان کو ہدایات کی گئی ہیں کہ وہ فیس چالان ایشو کرتے وقت صرف ٹیوشن فیس وصول کرنے کے مجاز ہوں گے اس کے علاوہ طلباء سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔

دوسری جانب پنجاب یونیورسٹی کی تیار کردہ کورونا ٹیسٹ کی 20 ہزار تشخیصی کٹ ضائع ہونے کا اندیشہ، سنٹر فار ایکسیلینس ان مالیکیولر بائیولوجی کے وائرالوجسٹ کی زیر نگرانی پنجاب یونیورسٹی نے کورونا تشخیصی کٹ کے نمونے تیار کیے تھے اور پنجاب یونیورسٹی نے 20 اپریل کو کرونا وائرس کی سستی ڈائیگناسٹک کٹ کی منظوری کیلئے ڈریپ کو خط لکھا تاہم اب تک اس پر پیشرفت نہیں ہوسکی۔

ڈریپ حکام اور حکومت پنجاب نے سستی ڈائیگناسٹک کٹ کی منظوری کو لٹکا دیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے لکھے گئے خط میں کورونا کٹ کی منظوری کے لئے ٹرائل کی درخواست کی گئی ہے۔ ٹرائل شروع نہ کرنے پر پنجاب یونیورسٹی حکام نے ڈریپ سے دوبارہ رابطہ کیا گیا ہے۔

 پنجاب یونیورسٹی کی شکایت پر فیڈرل ڈرگ انسپکٹر کا ڈپٹی ڈائریکٹر فارمیسی سروسز ڈریپ کو خط لکھا گیا ہے جبکہ فیڈرل ڈرگ انسپکٹر کا کہنا ہے کہ سستی ڈائیگناسٹک کٹ کے ٹرائل کے لئے کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا اور کرونا ڈائیگناسٹک کٹ کی منظوری کیلئے محکمہ صحت بھی کوئی جواب نہیں دے رہا۔

پنجاب یونیورسٹی نے 2 جون کو ویکیسین کی تیاری کیلئے آلات خریدنے کیلئے اشتہار شائع کرنے کی درخواست کی۔ پنجاب یونیورسٹی کاویکسین کی تیاری کیلئے آلات کی خریداری کا اشتہار بھی روک دیا گیا۔