سٹی42: اسرائیل کے پرائم منسٹر بنجمن نیتن یاہو نے اپنے فوجی بھرتی کے قانون میں تبدیلی کے بل کی منظوری میں رکاوٹ بننے والے کنیست کی خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی کے چیئرمین کو ہٹانے کے عمل میں ابتدائی کامیابی حاصل کر لی۔
لیکود پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے آج کنیست کی طاقتور خارجہ امور اور دفاع کے امور کی کمیٹی کے چئیرمین ایڈلسٹائن کو ہٹا کر نیتن یاہو کے حامی بواز بسمتھ کو چئیرمین بنانے کے لئے ووٹ دیا۔
کنیست کے صرف چار ارکان نے ایڈلسٹین کو ان کے عہدے پر رکھنے کے لیے ووٹ دیا، 29 ووٹ بسمتھ کے حق میں آئے، جو پہلے بھی دفاع اور خارجہ امور کی کمیٹی کے ایک رکن اور نیتن یاہو کے قریبی اتحادی ہیں، وہ کمیٹی کا چئیرمین بننے کے بعد الٹرا آرتھوڈوکس شہریوں کے فوج کی لازمی سروس کیلئے اندراج کے قانون میں تبدیلیاں کرنے والے بل کی قانون سازی کے عمل کو سنبھالیں گے۔ ایڈلسٹائن کو اس نئے بل کی منطوری مین مزاحمت کرنے کے سبب عہدہ سے الگ کیا جا رہا ہے۔
یولی ایڈلسٹائن کو گزشتہ ماہ ہریدی پارٹیوں کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے کی بنیاد پر بھرتی کے بل کو آگے بڑھانے سے انکار پر تبدیل کیا جا رہا ہے۔ قیادت میں تبدیلی کے لیے اب بھی کنیسٹ ہاؤس کمیٹی اور خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی کی رکاوٹوں کو عبور کرنے کی ضرورت ہے۔
یولی ایڈلسٹائن اس بل کی مخالفت کرنے میں تنہا نہیں ہیں۔ اسرائیل میں رائے عامہ فوج میں لازمی بھرتی کے ضمن میں کسی فرقے کو کسی بھی جواز کے ساتھ رعایت دینے کے خلاف ہے۔ ہریدی فرقوں کے یہودی فوج کی لازمی بھرتی کا قانون ختم کرنے کا مسلسل مطالبہ کرتے رہے ہیں اور اس مسئلے کو لے کر نیتن یاہو کی اتحادی حکومت میں شامل ایک اہم دائیں بازو کی مذہبی پارٹی حکومت چھوڑ چکی ہے، ایک اور پارٹی نے حکومت کی حمایت چھوڑ دی جس کے بعد نیتن یاہو کی حکومت کو پارلیمنٹ میں صرف ایک ووٹ کی اکثریت باقی رہ گئی ہے۔
نیتن یاہو جلد از جلد فوجی بھرتی کے قانون میں ترمیم کروا کر اپنے اتحادی مذہبی یہودی ارکان پارلیمنٹ کو اپنی حمایت پر دوبارہ رضامند کرنا چاہتے ہیں۔
اسرائیل نیشنل نیوز سائٹ نے بسمتھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تورات کے مطالعہ اور فوجی خدمات کا امتزاج "خوبصورت" ہے اور یہ کہ "دونوں کو یکجا کرنا ممکن ہے" اور یہ کہ بھرتی کا قانون "قومی معاملہ ہے - سیاسی نہیں۔"