کولمبیا یونیورسٹی نے اسرائیل مخالف مظاہروں پر درجنوں طلباء کو معطل کر دیا اور درجنوں کو یونی ورسٹی سے نکال دیا۔
نیویارک میں کولمبیا یونیورسٹی کی انتظامیہ نے آج بتایا کہ یونی ورسٹی نے مئی میں لائبریری پر قبضے اور 2024 کے موسم بہار میں احتجاجی کیمپ لگانے کے لیے طلباء کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
لائبریری کے واقعے کے دوران، اسرائیل مخالف کارکنوں نے یونیورسٹی کی بٹلر لائبریری پر حملہ کر دیا تھا جب کہ وہاں سٹوڈنٹس فائنل امتحانات کی تیاری کرنے کے لیے پڑھ رہے تھے۔
کولمبیا یونی ورسٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملوث پائے گئے سٹوڈنٹس پر پابندیوں میں پروبیشن، ایک سے تین سال تک کی معطلی، ڈگری کی منسوخی اور ملک بدر کرنا شامل ہے۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ وہ انفرادی کیسز پر تبصرہ نہیں کرتی اور نہ ہی سزا پانے والے طلباء کی تعداد کا اعلان کر رہی ہے۔
کولمبیا میں اسرائیل مخالف احتجاجی گروپوں کے اتحاد، کولمبیا یونیورسٹی اپتھائیڈ ڈائیوسٹ کا کہنا ہے کہ تقریباً 80 طلباء کو معطل کیا گیا ہے یا نکال دیا گیا۔
یہ سزائیں اس وقت آتی ہیں جب یونیورسٹی کی انتظامیہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے، ٹرمپ حکومت نے کولمبیا یونی ورسٹی کی انتظامیہ پر احتجاج پر لگام ڈالنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا ہے۔
یونیورسٹی نے اس سے پہلے 65 سے زائد طلباء کو عبوری طور پر معطل کر رکھا تھا۔
احتجاج کے دوران کولمبیا یونی ورسٹی کی انتظامیہ نے مظاہرین کو عمارت سے ہٹانے کے لیے پولیس کو طلب کیا، جس کے نتیجے میں 80 افراد گرفتار ہوئے تھے۔
اس ہفتے کے شروع میں، کولمبیا نے اپنی تادیبی پالیسی میں اصلاح کی، یونیورسٹی کی سینیٹ سے اختیار کو پرووسٹ کے دفتر کو منتقل کر دیا۔ کولمبیا کی یہودی کمیونٹی کے ارکان نے اس اقدام کو مظاہرین کو جوابدہ ٹھہرانے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔
جس وقت کولمبیا یونی ورسٹی میں اسرائیل کے مخالف گروپوں کا احتجاج بھڑکا تھا تو یونی ورسٹی کی انتظامیہ نے اس میں مداخلت کرنے سے گریز کیا تھا، یہاں تک کہ احتجاج کرنے والے قبضہ کرنے کی طرف چل پڑے تھے۔ اس کے بعد بھی یونی ورسٹی کی انتظامیہ نے احتجاج کرنے والوں کی بالوساطہ حمایت کی تھی اور انہیں روکنے یا سخت سزائیں دینے سے گریز کیا تھا۔ اس دوران امریکہ مین حکومت بدل گئی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے یونی ورسٹی کے ہی خلاف سخت تیادیبی کارروائیاں شروع کر دیں جس کے بعد اب یونی ورسٹی انتظامیہ کے رویئے میں نمایاں تبدیلی آ گئی ہے۔