ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ججز اور وکیل کام کیوں نہیں کرنا چاہتے، ، دل کرتا ہے کورٹ کو ہی جرمانہ کردوں: جسٹس محسن کیانی

ججز اور وکیل کام کیوں نہیں کرنا چاہتے، ، دل کرتا ہے کورٹ کو ہی جرمانہ کردوں: جسٹس محسن کیانی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ سمجھ نہیں آتی، نہ وکیل اور نہ ہی ججز، کام کیوں نہیں کرنا چاہتے، دل چاہتا ہے کورٹ کو ہی جرمانہ کردوں، اپنے آپ سے شرم آتی ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی کمپنی رجسٹرڈ کرنے سے متعلق ایس ای سی پی کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل کی طرف سے التوا مانگنے پر برہم ہوگئے۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ افسوس ہوتاہےجب کوئی وکیل آکر تاریخ مانگ لیتا ہے، سمجھ نہیں آتی نہ وکیل اور نہ ہی ججز، کام کیوں نہیں کرنا چاہتے، مجھے اپنے آپ سے شرم آتی ہے، دل کرتا ہے کورٹ کو ہی جرمانہ کردوں۔

جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھاکہ اس کیس میں 20 تاریخیں ہوچکی ہیں۔ عدالت نے وکیل درخواست گزار کی التواء کی استدعا منظور کرلی۔اس کے علاوہ ممبر بورڈ آف ریونیو کے فیصلے کے خلاف ایک اور کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ اپنا کیس سول کورٹ لے جائیں، سول کورٹ کا دائرہ اختیار بڑا ہے۔

انہوں نے کہاکہ سول جج ڈپٹی کمشنر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرکے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھیج سکتا ہے۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہاکہ ہمارے کیس میں ڈپٹی کمشنر کے وکیل نے سول جج کو کہا کہ یہ آپ کا دائرہ اختیار نہیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ وکیل کا کام ہوتا ہے جج کو بکری سے شیر بنانا، اگر کوئی جج بکری بنا ہو تو اس کو شیر بنا دیں، اگر صحیح جج تعینات ہوں گے تو ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تک چیزیں ٹھیک ہوجائیں گی۔