ویب ڈیسک : وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم میں درخواست دینے والے سٹوڈنٹس کے لئے بڑی خبر آگئی۔
وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم میں درخواست دینے والے سٹوڈنٹس کے لئے بڑی خبر آگئی ، وہ اب آسانی سے درخواست کا اسٹیٹس چیک کرسکیں گے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم 2025 دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔ اس سکیم کے تحت ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے ہزاروں سٹوڈنٹس کو مفت لیپ ٹاپ دیے جائیں گے۔ اس حوالے سے جاری حکومتی اعلامیہ کے مطابق اس اسکیم کا مقصد ایسے سٹوڈنٹس کو ڈیجیٹل سہولت فراہم کرنا ہے جن کے گھرانے مالی دباؤ کے باعث لیپ ٹاپ خریدنے کی سکت نہیں رکھتے، لیپ ٹاپ سے سٹوڈنٹس نہ صرف آن لائن کلاسز اور ریسرچ ورک میں حصہ لے سکیں گے بلکہ آئی ٹی مہارتوں کے ذریعے فری لانسنگ اور ریموٹ ورک کے ذریعے اپنے خاندان کی مدد بھی کرسکیں گے۔
درخواست کا اسٹیٹس چیک کرنے کا نیا طریقہ
سٹوڈنٹس کو نہیں معلوم کہ ان کا نام اسکیم کی فہرست میں شامل ہے یا نہیں تاہم اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت نے ایک نیا آن لائن سسٹم متعارف کرایا ہے۔ اب سٹوڈنٹس PM Youth Programme کی ویب سائٹ (laptop.pmyp.gov.pk) پر جا کر اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر درج کریں، یونیورسٹی کا انتخاب کریں اور فوری طور پر یہ دیکھ سکیں گے کہ ان کی درخواست منظور، زیرِ جائزہ یا مسترد ہوگئی ہے۔
ضروری دستاویزات
حکام کے مطابق زیادہ تر درخواستیں ادھوری ریکارڈ کی وجہ سے مسترد ہوجاتی ہیں۔ درخواست دیتے وقت طلبہ کو یہ دستاویزات لازمی مکمل رکھنی چاہئیں:
درست CNIC یا ب فارم (نادرا ویری فیکیشن کے لیے)
یونیورسٹی ان رولمنٹ کا ثبوت (اسٹوڈنٹ کارڈ)
حالیہ ٹرانسکرپٹ برائے تعلیمی کارکردگی
یونیورسٹی ڈیٹا بیس میں اپ ڈیٹ شدہ ذاتی معلومات
عام غلطیاں جن سے درخواستیں مسترد ہوتی ہیں
اہلکاروں کا کہنا ہے کہ CNIC غلط درج کرنا، غیر فعال فون نمبر یا ای میل دینا، تعلیمی ریکارڈ اپ ڈیٹ نہ کرنا یا ایک ہی CNIC پر متعدد درخواستیں دینا سب سے عام غلطیاں ہیں۔
شکایات اور تاخیر کی وجوہات
اگر کسی طالب علم کا نام فہرست میں نہیں آتا تو پہلے اپنی یونیورسٹی کے فوکل پرسن سے رابطہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ شکایت PM Youth Programme ہیلپ لائن پر بھی درج کرائی جا سکتی ہے۔
حکام کے مطابق بعض طلبہ کو منظوری کے باوجود لیپ ٹاپ ملنے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں یونیورسٹیوں کی جانب سے دیر سے ویری فیکیشن، ادھوری دستاویزات، شپمنٹ تاخیر اور بعض اوقات بجٹ کی منظوری میں تاخیر شامل ہیں۔
محکمہ تعلیم نے طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی یونیورسٹی سے مسلسل رابطے میں رہیں اور رابطہ نمبر یا ای میل ایڈریس ہمیشہ اپ ڈیٹ رکھیں تاکہ تقسیم کے موقع پر کسی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔