میڈیکل طلبا کیلئے انٹری ٹیسٹ ڈراؤنا خواب بن گیا

میڈیکل طلبا کیلئے انٹری ٹیسٹ ڈراؤنا خواب بن گیا

( زاہد چوہدری ) پاکستان میڈیکل کمیشن کا میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں داخلوں کیلئے انٹری ٹیسٹ کا جاری کردہ یکساں نصاب نے پنجاب کے طلبا کیلئے نئی مشکل کھڑی کردی۔ پنجاب میں پہلے سے رائج نصاب کے مقابلے میں پی ایم سی کے جاری کردہ سلیبس میں 40 فیصد تک فرق نے طلبا کے اوسان خطا کر دیئے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میڈیکل کمیشن نے رواں برس ملک بھر میں میڈیکل اینڈ کالجز میں داخلوں کیلئے ایک انٹری ٹیسٹ کے انعقاد کا اعلان کر رکھا ہے اور اس مقصد کیلئے ملک بھر کیلئے انٹری ٹیسٹ کا یکسان نصاب مرتب کرنے کیلئے ایک کمیٹی قائم کی گئی۔ جس کے تیار کردہ یکسان نصاب کے سامنے آںے پر پنجاب کے طلبا کے اوسان خطا ہوگئے ہیں۔

پنجاب میں اس سے قبل یو ایچ ایس کے انٹری ٹیسٹ کیلئے تیار کردہ نصاب کے مقابلے میں پی ایم سی کے تیار کردہ نصاب میں 40 فیصد تک فرق ہے۔ انٹری ٹیسٹ میں داخلے کیلئے سب سے زیادہ فوقیت بائیولوجی کو حاصل ہے جس کے انٹری ٹیسٹ میں 80 نمبر ہیں لیکن یکساں نصاب میں شامل بائیولوجی کا 40 فیصد سے زائد حصہ پنجاب میں پڑھایا ہی نہیں جاتا۔

اس کے علاوہ کیمسٹری اور فزکس میں بھی نصاب میں فرق ہے۔ ذرائع کے مطابق یکساں نصاب کا فائدہ فیڈرل بورڈ سے فارغ التحصیل طلبا کو زیادہ پہنچے گا تاہم میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے انٹری ٹیسٹ میں اچھے نمبر لینا پنجاب کے طلبا کیلئے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔