سٹی42: دنیا میں ایروناٹیکل انڈسٹری کی اہم ترین نمائش دبئی ائیر شو میںممکنہ خریداروں کو لبھانے کے لئے بھیجے گئے جنگی طیارے کا ممکنہ خریداروں کی آنکھوں کے سامنے گر کر بھسم ہو جانا صرف ٹیکنیکل ناکامی کا ایک واقعہ نہیں بلکہ اس واقعہ میں دراصل بھارتی گھمنڈ اورفوجی برتری کا خواب زمین بوس ہوا ہے۔
دبئی ایئر شو میں تیجس کا گر کر تباہ ہونا بھارت کے خود ساختہ ’’آتم نربھرتا‘‘ کے دعوے کی سب سے بڑی عالمی سطح پر زمین بوس ہو گئے ۔
کئی دہائیوں سےکئے جانے والے مبالغہ آمیز دعوے، سیاسی نمائش اور میڈیا کے ذریعے بنائے گئے فیک امیج چند سیکنڈ میں سب کچھ ہی زمیں بوس ہو گیا۔
یہ دلچسپ بات ہے کہ بھارت تیجس طیارے کو ملائشیا اور کئی دوسرے ملکوں کو فروخت کرنے کی کوشش کر رہا تھا، ان سب ملکوں کے ماہرین بھی دبئی کے ائیرشو میں تیجس کی پرفارمنس کو خاص طور سے دیکھ رہے تھے، ان کے دیکھتے ہی دیکھتے لچھے دار مارکیٹنگ کا سب بھرم کھل گیا۔
تراسی (83) بلین ڈالر کے بہت بڑےفوجی اخراجات کو بھارت کی جس فوجی ترقی کا ذریعہ قرار دیا جا رہا تھا، وہ آخرکار رن وے پر بکھرے ہوئے ملبے کی صورت میں آگ کے شعلوں میں گھری نظر آئی۔
یہ حادثہ صرف ایک طیارے کا نہیں—بلکہ بھارتی مسلح افواج اور اُن کے نظام میں موجود گہرے زوال اور پستی کو پوری دنیا کے سامنے لے آیا۔
جس چیز کو بھارت ’’مقامی صلاحیت‘‘ کا ثبوت بنا کر پیش کرتا رہا، اس نے درحقیقت ادارہ جاتی کمزوریوں کو ظاہر کر دیا—معیار، حفاظت اور جوابدہی کو برقرار رکھنے کی مکمل ناکامی سامنے آئی۔
امریکی کانگریس کی حالیہ رپورٹ پہلے ہی ہندوستانی دفاعی خریداری میں کرپشن، عدم شفافیت اور سیاسی مداخلت کی نشاندہی کر چکی تھی؛ یہ حادثہ ان خدشات کی عملی تصویر بن کر سامنے آیا۔
تیجس کی جمعہ کی دوپہر پرواز سے قبل گردش کرنے والی تصویروں میں تیل کی لیکیج اور ساختی کمزوری کے مسائل واضح ہو کر سامنے آ گئےتھے—اس سنگین صورتحال کا علم ہو جانے کے باوجود بھارتی حکام نے معمولی تشہیر کا فائدہ اینٹھنے کے لئے دو دہائیوں کے پروپیگنڈے سے بنایا جھوٹا امیج کی منتشر کروا لیا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ حادثہ اور اس سے پہلے ظاہر ہونے والے انڈیکیٹر اتفاقیہ نہیں بلکہ یہ اِن کمپیٹنسی کے تسلسل کا لازمی نتیجہ ہے۔
نظر آنے والے تکنیکی نقائص کے باوجود طیارہ اڑانا اس ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے جو بیوروکریٹک تکبر اور اس نظام سے تشکیل پاتی ہے جہاں تاثر کو حقیقت سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ جھوٹا تاثر گھڑنے والے اپنے ہی جھوٹ پر یقین کر کے یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا گھڑا ہوا تاثر کچھ بھی ہو، حقیقت میں ان کی پروڈکٹ تباہ کن حد تک بودی ہے۔
بھارت دبئی ایئر شو میں اپنی فوجی ’’نشاۃ ثانیہ‘‘ دکھانا چاہتا تھا جس کا ماضی بعید تک کہیں بھی کوئی وجود نہیں رہا؛ لیکن جو کچھ سامنے آیا وہ اس کے فیصلہ سازی، انجینیئرنگ چین اور کمانڈ سٹرکچر میں سرایت خرابیوں کا اظہار تھا۔
تیجس کا یہ حادثہ ایک واضح یاد دہانی ہے کہ کوئی بھی "بیانیہ سازی"، "میڈیا ہائپ" یا "تشہیری مہم" اور "مارکیٹنگ کیمپین" اُس نظام کی حقیقت کو مسلسل نہیں چھپا سکتی جو اندر سے بوسیدہ ہو۔