ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

تیجس بھارت کی ایروناٹیکل انجینئیرنگ کا ڈراؤنا خواب بن گیا

Indian Aeronautical industry, city42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: ڈیفینس انڈسٹری کے ایکسپرٹس تیجس کی تباہی کو حقیقت میں بھارت کی ادارہ جاتی ناکامی کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں۔

یہ طیارہ، جسے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) نے تیار کیا ہے، ایک سیٹ والا ہلکا لڑاکا ہوائی جہاز ہے۔  تیجس کی تباہی کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔  پہلا حادثہ 2024 میں بھارت میں ایک مشق کے دوران ہا تھا جس کی زیادہ تشہیر نہیں ہوئی تھی۔ دوسرا افسوسناک واقعہ دبئی ایئر شو کے دوران پیش آیا جو دنیا کی سب سے بڑی ایوی ایشن نمائشوں میں سے ایک ہے۔ 

 ایروناٹیکل انجینئیرنگ کے ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہبار بار  تبدیل کی گئی سپیسفکیشنز، ٹیکنالوجی گیپس اور غیر واضح ڈیزائن نے تیجس کے ڈیویلپمنٹ پروگرام کو روکے رکھا ۔

تیجس  طیارے کی تیاری کے دوران ہال کی پیداواری اور مینوفیکچرنگ کوالٹی پر سوالات اٹھائے گئے۔

تیجس طیارے کی تیاری کے دوران پینل مس الائنمنٹ، لیکج اور وائبریشن جیسے مسائل بارہا رپورٹ ہوئے۔

تیجس طیارے میں  امریکہ کی جنرل الیکٹرک کمپنی کے بنے انجن ناکام ثابت ہوئے اور یہ راز کھل گیا کہ بھارت کے انجن طیارے اڑانے کے قابل نہیں۔

جی ای انجن ایئر فریم کے مطابق نہیں نکلے  تھرسٹ، سمارٹ لوڈ اور حرارتی دباؤ کے مسائل سامنے آئے۔ 

کم سپیڈ پر استحکام کے مسائل  پائلٹ ان پٹ اور آٹو پائلٹ میں تضاد بھی تیجس تیاری کے ابتدائی مراحل میں سامنے آئے۔

خود بھارتی فضائیہ نے  تیجس طیارے کی  کارکردگی، رینج،اور مینٹی ننس پر مستقل عدم اطمینان ظاہر کیا تھا۔ 

حقائق کو نظر انداز کر کے، انتہائی سنگین نوعیت کے خدشات کو پس پشت ڈال کر ، سیاسی دباؤ کے باعث تیجس طیارے کو شو پیس بنا دیا گیا جس کا بھیانک نتیجہ نکلا۔  تکنیکی خامیاں چھپائی گئیں اور نتیجہ تباہی کی صورت میں سامنے آیا۔

نامکمل سافٹ ویئر، ہائیڈرالک مسائل اور ریڈار اپگریڈز کے بغیر طیارہ بین الاقوامی شو میں بھیجا گیا۔

دبئی میں تیجس کی تباہی حقیقت میں بھارت کی ادارہ جاتی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔

 لیکج  کے باوجود طیارہ اُڑانا ناقص  مینٹیننس، کمزور انسپیکشن اور سسٹمک فیصلوں کی بڑی غلطی ثابت ہوا۔