چین کی لو آلٹیٹیوڈ اکانومی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جہاں ڈرونز، فضائی ٹیکنالوجی اور الیکٹرک اڑنے والی گاڑیاں مستقبل کے شہری ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس نظام کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔
شنگھائی میں 22 سے 25 جولائی تک جاری انٹرنیشنل ایڈوانسڈ ایئر موبیلیٹی ایکسپو 2026 میں جدید ڈرونز، خودکار پرواز کے نظام اور نئی فضائی ٹیکنالوجیز کی نمائش کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ شعبہ اب زرعی استعمال تک محدود نہیں رہا بلکہ ڈرون ڈیلیوری، اسمارٹ سٹی مینجمنٹ، صنعتی نگرانی، ہنگامی امداد اور شہری فضائی سفر جیسے شعبوں میں بھی تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے۔
چینی حکام کے مطابق مصنوعی ذہانت، خودکار پرواز، جدید بیٹری ٹیکنالوجی اور مضبوط صنعتی سپلائی چین اس شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صنعت کی مزید ترقی کے لیے حفاظتی معیارات، انفراسٹرکچر اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہوگا۔