ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

چیئرمین پی ٹی آئی کی 26 نومبر احتجاج میں اندراج مقدمہ کی درخواست عدم پیشی پر خارج کرنے کا حکمنامہ جاری

چیئرمین پی ٹی آئی کی 26 نومبر احتجاج میں اندراج مقدمہ کی درخواست عدم پیشی پر خارج کرنے کا حکمنامہ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہرعلی خان کی 26 نومبر احتجاج میں اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کا حکمنامہ جاری کردیا ۔ 
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے 17 صفحات پر مشتمل حکمنامہ جاری کردیا ۔ فیصلے کے مطابق متعدد تاریخیں دینے کے باوجود بیرسٹر گوہر علی خان نے چشم دید گواہ کے طور پر اپنا بیان ریکارڈ نہیں کرایا، قانون کے مطابق شکائت کے ساتھ گواہوں کی فہرست منسلک کرنا ضروری ہے۔شکایت میں علی امین گنڈاپور، عمر ایوب، بشریٰ بی بی اور متعدد اراکینِ اسمبلی کو گواہ قرار دیا گیا۔

کوئی گواہ عدالت میں پیش نہیں ہوا، کوئی بیان جمع نہیں کروایا۔شکایت میں دعویٰ کیا گیا کہ 12 افراد جاں بحق اور 38 سے زائد کارکن گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔طویل عرصہ گزرنے کے باوجود پوسٹ مارٹم رپورٹس، ڈیتھ سرٹیفکیٹس یا زخمیوں کی میڈیکل رپورٹس پیش نہیں کی گئیں۔

عدالت نے فیصلے میں کہا بظاہر وزیرِ اعظم اور دیگر کابینہ ارکان کے خلاف مقدمہ نہیں بنتا۔ شواہد کی عدم موجودگی میں محض زبانی الزامات کی بنیاد پر کارروائی نہیں کی جا سکتی،وزیرِ اعظم اور دیگر کے خلاف کارروائی آگے بڑھانے کے لیے مطلوبہ ابتدائی شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔اگر ریاستی ادارے یا اسپتال تعاون نہیں بھی کر رہے تھے تو قبر کشائی کا قانونی حق موجود تھا،مجسٹریٹ کی عدالت سے رجوع کر کے لاشوں کی قبر کشائی اور موت کی اصل وجوہات معلوم کرنے کی کارروائی کرائی جا سکتی تھی۔طویل عرصہ گزرنے کے باوجود درخواستگزار نے کوئی قانونی اقدام نہیں اٹھایا،شکایت کے ساتھ اخباری تراشوں کے متعدد والیمز منسلک کیے گئے، الزامات کے حق میں کوئی ڈیجیٹل فوٹیج یا یو ایس بی بطورِ ثبوت ریکارڈ پر پیش نہیں کی گئی،   درخواست میں وزیراعظم شہبازشریف، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطاتارڑ، وزیر دفاع خواجہ آصف ودیگر کو فریق بنایاگیاتھا