(ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر رامپور میں دو بیویوں کے درمیان تنازع کو حل کرنے کے لیے پنچایت نے شوہر کی تقسیم کا ایک انوکھا فیصلہ سنا دیا۔ معاہدے کے تحت شوہر تین دن پہلی بیوی اور تین دن دوسری بیوی کے ساتھ رہے گا، جبکہ اتوار کو اسے ’ہفتہ وار چھٹی‘ ملے گی۔اس دن وہ دونوں سے دور تنہائی میں رہے گا اور اپنی مرضی کا مالک ہوگا۔
بھارت کی اردو نیوز ویب کے مطابق اتر پردیش کے رامپور ضلع سے ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جسے سن کر ہر کوئی حیران رہ گیا ہے۔ یہاں ایک شخص کی دو بیویوں کے درمیان آئے روز ہونے والے جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے پنچایت نے ایک ’انوکھا فارمولہ‘ نکالا ہے۔ اب یہ شوہر ہفتے کے چھ دن اپنی دونوں بیویوں کے درمیان تقسیم رہے گا، جبکہ ساتواں دن یعنی اتوار اس کو اپنے لیے ’ویکلی آف‘ (Weekly Off) کے طور پر دیا گیا ہے۔ اس معاملہ کا تعلق عظیم نگر تھانہ علاقے کے نگلیا عاقل گاؤں کا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہاں رہنے والے مسلم برادری کے ایک نوجوان نے دو شادیاں کی ہیں۔ پہلی بیوی سے اسکی شادی گھر والوں کی مرضی سے (ارینج میرج) ہوئی تھی، جبکہ دوسری بیوی اسکی پسند کی (لو میرج) ہے۔ دونوں بیویاں شوہر پر اپنا پورا حق جتاتی تھیں اور اسے اپنے پاس رکھنے کی ضد پر اڑی رہتی تھیں۔ اس ’حق کی جنگ‘ نے گھر کو میدانِ جنگ بنا دیا تھا اور معاملہ پولیس تک پہنچ گیا۔
جب تنازع پولیس کے دائرے سے باہر ہو گیا تو گاؤں کی پنچایت بلائی گئی۔ پنچوں نے دونوں بیویوں اور شوہر کی بات سننے کے بعد ایک تحریری معاہدہ تیار کیا۔ معاہدے کی شرائط کے مطابق پیر سے بدھ تک شوہر پہلی بیوی کے ساتھ وقت گزارے گا جبکہ جمعرات سے ہفتہ تک شوہر دوسری بیوی کے پاس رہے گا۔اس کے علاوہ ہفتے کا آخری دن یعنی اتوار شوہر کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے۔ اس دن وہ دونوں سے دور تنہائی میں رہے گا اور اپنی مرضی کا مالک ہوگا۔پنچایت نے یہ بھی واضح کیا کہ خاص حالات میں باہمی رضامندی سے دن آگے پیچھے کیے جا سکتے ہیں۔ مستقبل میں کسی تنازع سے بچنے کے لیے باقاعدہ تحریری کاغذات پر تینوں کے دستخط بھی کروائے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ شوہر کی تقسیم کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے۔ گزشتہ سال فروری میں بہار کے پورنیہ ضلع سے بھی ایسا ہی واقعہ سامنے آیا تھا۔ وہاں ایک شخص نے پہلی بیوی کو طلاق دیے بغیر دوسری شادی کر لی تھی۔ پورنیہ کا یہ معاملہ جب پولیس فیملی کاؤنسلنگ سینٹر پہنچا تو گرفتاری کے خوف سے دونوں بیویوں کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا۔ وہاں بھی تین تین دن کی تقسیم کی گئی تھی اور ایک دن شوہر کی مرضی پر چھوڑا گیا تھا۔
اترپردیش کے شہر رامپور کی اس انوکھی پنچایت اور اس کے فیصلے کی چرچا اب پورے ضلع میں ہو رہی ہے۔ لوگ اسے ’ازدواجی زندگی کا مینجمنٹ‘ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم یہ سمجھوتہ کتنا کامیاب ثابت ہوتا ہے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔