ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

’پے درپے زلزلے‘ سیاحتی جزیروں پر خوف کے ڈیرے، نظامِ زندگی رُک گئی

’پے درپے زلزلے‘ سیاحتی جزیروں پر خوف کے ڈیرے، نظامِ زندگی رُک گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : پے درپے آنے والے زلزلے کے جھٹکوں نے یونان کے سیاحتی جزیروں پر موجود لوگوں میں خوف طاری کردیا ہے، اس کی وجہ سے تمام اسکولوں میں چھٹیاں دے دی گئی ہیں، جب کہ سیاحوں کی آمد بھی رکنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف ایتھنز (ای کے پی اے) کی زلزلہ پیما لیبارٹری کے مطابق 26 جنوری سے 14 فروری کے درمیان سائکلاڈس جزائر کے جزیروں پر 19 ہزار 200 سے زائد زلزلے ریکارڈ کیے گئے۔ امورگوس اور 3 دیگر جزیروں پر 11 مارچ تک ہنگامی حالت نافذ ہے، پیر کے روز ایمورگوس میں 5.1 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، زلزلے سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے اور حالیہ دنوں میں زلزلے کی شدت اور تعدد میں کمی آئی ہے، لیکن وہ اب بھی سائنس دانوں کو حیران کرتے ہیں۔

میئر لیفٹریس کریسکوس نے کہا کہ سردیوں میں پیریئس سے کشتی کے ذریعے 9 گھنٹے سے زیادہ عرصے تک پتھریلے جزیرے پر رہنے والے 1900 مستقل باشندے بنیادی طور پر پیشہ ورانہ یا صحت کی وجوہات کی بنا پر کچھ کو چھوڑ کر امورگوس میں رہے ہیں، زیادہ تر زلزلے اتنے کمزور تھے کہ انہیں محسوس نہیں کیا جا سکتا تھا، لیکن 10 فروری کو 5.3 شدت کے زلزلے نے اعصاب کا امتحان لے لیا، جسے ایتھنز تک محسوس کیا گیا، جس کے بعد ہزاروں لوگ سینٹورینی سے نقل مکانی کر چکے ہیں، جس کی وجہ سے جزیرے کے کیفے اور وائن شاپس موسم سرما کے لیے بند ہیں، اور سفید پوش گنبدوں والے چیپلز کے درمیان صرف مینڈک اور بلی کے بچے ہی سنسان گلیوں میں زندگی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔

ایک اور تشویش ان جزیروں میں ابھرنا شروع ہو گئی ہے، جہاں موسم گرما میں سالانہ بنیاد پر ’سیاحوں کی یلغار‘ دیکھنے کو ملتی ہے، وہیں آج ویرانے کے ڈیرے لگے ہوئے ہیں۔ایمورگوس کے میئر کا کہنا ہے کہ ہر سال ایک لاکھ سیاح آتے ہیں، لوگوں کو خوفزدہ نہ کرو، بصورت دیگر، وہ اس موسم گرما میں نہیں آئیں گے!۔

مین لینڈ سے ہنگامی حالت کے ایک حصے کے طور پر امدادی کمک بھیج دی گئی ہے۔

جزیرے کے رہائشی لوگوں کی آب بیتی

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈیونیسیا کوبائیو نامی ٹیچر یونانی جزیرے امورگوس میں اپنے طالب علموں کی ’اضطراب اور تناؤ‘ سے نمٹ رہی ہیں، جہاں 3 ہفتوں سے زلزلے کے ہزاروں جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں۔ کچھ بچے ان سے پوچھتے ہیں کہ جب انہیں زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوں تو کیا انہیں بستر کے نیچے چھپ جانا چاہیے؟۔

کوبیاؤ نے بتایا کہ یہ کوویڈ 19 کی وبا کی طرح ہے، لیکن2020 اور 2021 میں ہم گھر پر رہ سکتے تھے، اور خود کو وائرس سے بچا سکتے تھے، جب کہ اب ہم نہیں جانتے کہ کسی بھی وقت کیا ہو سکتا ہے۔

سوٹیرس نامی شہری کا کہنا ہے کہ  ایک شام وہ اپنے باورچی خانے میں تھے، کہ ہم بھاگ کر باہر نکل آئے، کیوں کہ ہم ڈرے ہوئے تھے۔

ایک شخص نے بتایا کہ جب وہ تعمیراتی سامان لے جا رہا تھا، تو تیز زلزلہ محسوس ہوا، لیکن سب جانتے ہیں کہ یونان میں ہم زلزلوں کے عادی ہیں۔

پوپی پرسینو کے مطابق زلزلے کے جھٹکے جزیرے پر مسلسل محسوس کیے جا رہے ہیں، تیز زلزلہ اس وقت آیا، جب وہ اپنی منی مارکیٹ کے سامنے سبزیاں اگا رہی تھیں۔

2 بچوں کی ماں نے زلزلے کی شدت میں کمی پر ’راحت‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگ تھکنا شروع ہو گئے ہیں۔

کٹاپولا کی بندرگاہ پر صبح کی کافی پیتے ہوئے بزرگوں کو 1956 کا زلزلہ یاد آیا، جس کی شدت 7.5 سے 7.7 کے درمیان تھی، جس کے بعد 20 میٹر اونچی لہروں کے ساتھ سونامی آگیا تھا، اور امورگوس تباہ ہو گیا تھا۔

83 سالہ ویگیلیس مینڈرینوس کا کہنا ہے کہ اس وقت اس بارے میں کوئی معلومات یا ایسی کوئی چیز موجود نہیں تھی، ہم ڈر گئے تھے، ہم اسے دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتے۔

چٹانوں سے فائر فائٹرز کے ایک گروپ نے اینیڈروس کے جزیرے کو دیکھا، زیادہ تر زلزلے غیر آباد چٹان کے بالکل قریب ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔

ایمورگوس 6 نقائص سے گھرا ہوا ہے، اور سیسمولوجسٹ اس رجحان کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے نئے سینسر نصب کر رہے ہیں۔

ان زلزلوں کے دوران دیہی علاقوں میں بھیڑیں معمول کے مطابق چلتی ہیں، حالاں کہ چرواہوں کا کہنا ہے کہ ان کے ریوڑ زمین کو مسلسل ہلتے ہوئے محسوس کرنے سے زیادہ گھبراتے ہیں۔