ہائیکورٹ کا تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کیلئے پالیسی بنانے کا حکم

ہائیکورٹ کا تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کیلئے پالیسی بنانے کا حکم
کیپشن: City42 - Drugs,
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کے لیے پالیسی بنانے کا حکم دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس جواد حسن نے کنسلٹنٹ انسداد منشیات مہم سید ذوالفقارسمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی، درخواست میں وفاقی حکومت اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ عدالتی حکم کے باوجود تعلیمی اداروں کی حدود میں سگریٹ کی فروخت اور سگریٹ نوشی کا سلسلہ جاری ہے۔ عدالت متعلقہ افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔

اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رائے شاہد سلیم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت تمام تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تمام کیلئے اقدامات کر رہی ہے، سکولوں میں آگاہی لیکچرز اور سیمینار منعقد کیے جارہے ہیں۔

لاء افسر نے بتایا کہ تعلیمی اداروں کی حدود میں منشیات اور سگریٹ فروخت کرنے کے خلاف پالیسی بنانے کے لئے کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

دوران سماعت جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب حکومت تعلیم اداروں میں منشیات کے استعمال کے خلاف اقدامات کرے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر پنجاب حکومت سے پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔