سٹی42: پی ٹی آئی مذاکرات کرے گی یا احتجاج کرے گی؟ پی ٹی آئی کے اہم رہنما نے صاف بتا دیا۔
احتساب عدالت سے 17 سال قید کی سزا ملنے کے بعد عمران خان کے نامزد اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے اچانک نواز شریف سے مذاکرات کی اپیل کر دی لیکن پی ٹی آئی کےمتعلقین بضد ہیں کہ وہ حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے، حکومت پہلے ہی بتا رہی ہے کہ وہ عمران خان کی سزائیں ختم کرنے پر کوئی بات نہیں کر سکتی اور پی ٹی آئی سے مذاکرات تب کرے گی جب وہ عمران خان سے لاتعلقی کا اعلان کرے گی اور نو مئی سمیت فوج پر حالیہ حملوں تک ہر چیز پر واضح اظہار ندامت اور معذرت کرے گی۔
عمران خان کے مربی پشتون پرست سیاستدان محمود اچکزئی حکومت سے ڈائیلاگ کی بات کر رہے ہیں تو ایکس پر عمران خان کا یہ بیان آ گیا کہ عمران خان تو حقیقی آزادی کے لئے مرنا چاہتے ہیں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک بار پھر پاکستان کی زمینی حقیقتوں کے برعکس ایسے الزام لگائے کہ جن کا پاکستان میں کوئی ذکر بھی سننا پسند نہیں کرتا۔
عمران خان کے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر ان کے نام سے پوسٹ کئے گئے تازہ ترین "بیان" نے عملاً محمود خان اچکزئی کی جانب سے مذاکرات کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے اور ساتھ ہی "ذہنی مریض" قرار دینے والی پریس کانفرنس میں بیان کی گئی باتوں کی یاد ایک بار پھر تازہ کر دی ہے۔
اس دوران پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات نے واضح کیا ہے کہ "احتجاجی تحریک سے متعلق عمران خان کی ہدایت حتمی ہوگی اور اسی پر عمل کیا جائے گا۔ "
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کے قریبی ذرائع عمران خان کے ساتھ تو کوئی با ہونے کے کسی بھی امکان کو تو پہلے ہی مسترد کر رہے تھے، اب انہوں نے بتایا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ بھی تب ہی کوئی بات چیت ہو سکتی ہے جب پی ٹی آئی 9؍ مئی کے واقعات اور عمران خان اور پارٹی کے سوشل میڈیا کی فوج مخالف مہم پر اظہارِ ندامت کرے اور معذرت کرنے کے ساتھ ان تمام سرگرمیوں اور ان میں ملوث افراد سے لاتعلقی اختیار کرے۔ وزیراعظم کے قریبی ذرائع کا اصرار ہے کہ اس معذرت کے بغیر پی ٹی آئی کے ساتھ بامعنی مذاکرات ممکن نہیں۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ چونکہ احتجاجی تحریک کی پالیسی براہِ راست پارٹی قائد عمران خان کی جانب سے آئی ہے لہٰذا وہی نافذالعمل ہوگی۔ محمود اچکزئی مذاکرات سمیت اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم پی ٹی آئی قیادت عمران خان کی ہدایات کی پابند ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ہدایت دی ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کیلئے احتجاجی تحریک کی تیاری کریں۔
اپوزیشن اتحاد کی جانب سے گزشتہ روز منعقدہ قومی کانفرنس میں اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور ملک کو "بحران سے نکالنے"کیلئے مذاکرات کا آغاز کریں۔جس وقت محمود اچکزئی ملک کو "بحران کا شکار" قرار دے کر وزیراعظم کے متبادل دو لیڈروں سے مذاکرات کرنے کی اپیل کر رہے تھے، اسی روز عمران خان کے سوشل میڈیا ہینڈل سے ان کی پسندیدہ حرکت کی جا رہی تھی جسے پاکستان مین اعلیٰ ترین سطح پر ذہنی مرض قرار دیا جا چکا ہے۔
’’ایکس‘‘ پر عمران خان کے نام سے نہ سرف پاکستان کے سیاست سے دور اداروں اور قومی شخصیات کو بلاجواز نشانہ بنایا گیا بلکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو احتجاجی تحریک کی تیاری کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔
اس حوالے سے پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم س نے واضح کیا کہ وہ ایکس پر عمران خان کے نام سے آنے والی پوسٹ کو قابلِ تقلید مان رہے ہیں۔
محمود اچکزئی کچھ بھی کہیں وہ ان کی اپنی مرضی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کے قریبی ایک سینئر ذریعے سے جب یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ حکومت محمود خان اچکزئی کی مکالمے کی پیشکش پر کیا ردعمل دے گی تو ان کا کہنا تھا کہ 9؍ مئی کے سنگین جرائم اور پارٹی و اس کے بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے جاری فوج مخالف مہم کو نظرانداز کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ساتھ بامعنی مذاکرات کیسے ممکن ہیں؟
ذرائع کے مطابق، شہباز شریف حکومت کا موقف ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے اظہارِ ندامت، لاتعلقی کے اعلان اور معذرت کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں۔ وزیراعظم کے قریبی ذرائع واضح مؤقف رکھتے ہیں کہ کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، شہداء کا تمسخر اڑایا اور فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت کیخلاف کردارکشی کی مہم چلائی۔ ایسے حالات میں کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔