سٹی42: پنجاب پولیس کے سابق انسپکٹر جنرل نے خود کو گولی مار لی۔
مشرقی پنجاب کے سابق انسپکتر جنرل پولیس کو شدید زخمی حالت مین ہسپتال لایا گیا، انہوں نے خودکشی کا خط لکھنے کے بعد خود کو گولی ماری لیکن اہل خانہ انہین زخمی حالت مین ہسپتال پہنچانے میں کامیاب ہو گئے، ڈاکٹر ان کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پڑوسی ملک کی ریاست پنجاب کے شہر پٹیالہ میں سابق آئی جی پولیس امر سنگھ چاہل گھر میں شدید طور پر زخمی حالت میں ملے۔ اہل خانہ انہیں علاج کے لیے فوری طور پر پٹیالہ کے پارک ہاسپٹل لے گئے، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم ان کے علاج میں مصروف ہے۔ ان کی حالت فی الحال سنگین بنی ہوئی ہے۔
اہل خانہ نے بتایا کہ امر سنگھ چاہل نے خود کو گولی مار لی ہے، جس کی وجہ سے وہ شدید طور پر زخمی ہو گئے ہیں۔ بھارت میں سامنے آنے والی کچھ میڈیا رپورٹس میں ان کی وفات کی اطلاع بھی دی گئی ہے، لیکن ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
پولیس کو امر سنگھ چاہل کے گھر میں 12 صفحات پر مشتمل ایک سوسائڈ نوٹ ملا ہے، جس میں سابق آئی جی نے خود کے ساتھ ہوئے آن لائن فراڈ کی وجہ سے معاشی پریشانیوں کا ذکر کیا ہے۔
پولیس افسران نے واضح کر دیا ہے کہ معاملے کی مختلف زاویے سے تحقیقات کی جا رہی ہے اور کسی بھی نتیجہ پر پہنچنے سے قبل حقائق کی مکمل طور سے تحقیقات کی جائے گی۔ سینئر افسران نے بتایا کہ فارینسک ٹیم نے موقع پر جانچ کی اور ضروری ثبوت اکٹھے کر لیے ہیں۔ ساتھ ہی اہل خانہ اور دیگر متعلقہ افراد کے بیان بھی درج کیے جا رہے ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجہ معلوم ہو سکے گی۔ فی الحال پولیس پورے معاملہ پر نظر بنائے ہوئی ہے۔
امر سنگھ چہل کے اہل خانہ نے بتایا کہ ان کے ساتھ آن لائن دھوکہ دہی کے معاملات ہوئے تھے، جس میں ٹھگوں نے ان سے 8 کروڑ روپے ٹھگ لیے تھے۔ اسی بات کا ذکر انہوں نے 12 صفحات کے سوسائڈ نوٹ میں کیا ہے۔ امر سنگھ چہل نے پنجاب کے ڈی جی پی کے نام یہ خط لکھا ہے، جس میں اس معاملے میں فوری توجہ مرکوز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ امر سنگھ چہل 2015 کے فریدکوٹ فائرنگ معاملے میں ملزم بھی ہیں۔
فرید کوٹ فائرنگ کیس کیا ہے
فرید کوٹ فائرنگ کیس کا حوالہ دس سال پہلے 2015 میں بہبل کلاں اور کوٹکپورہ، میں پولیس فائرنگ کے مشہور واقعہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس فائرنگ میں وہاں احتجاج کرنے والے دو سکھ مظاہرین ہلاک ہوئے تھے۔ یہ احتجاج برگاڑی میں گرو گرنتھ صاحب کی بے حرمتی (بے حرمتی) کے سبب ہوا تھا۔
امر سنگھ چاہل کا کردار
پولیس کے ریٹائرڈ انسپکٹر جنرل (آئی جی) اور سابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) امر سنگھ چاہل اس کیس میں کلیدی ملزم تھے۔ اان کو کئی چارج شیٹوں میں ذمہ دار نامزد کیا گیا۔ اس کا نام اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) کی طرف سے دائر کی گئی متعدد چارج شیٹوں میں شامل ہے، جس میں 24 فروری 2023 کو پیش کی گئی بنیادی چارج شیٹ بھی شامل ہے۔
کمانڈ کی ذمہ داری: 2015 کے واقعات کے وقت، امر سنگھ ایک سینئر لیڈر شپ (ڈی آئی جی) پر فائز تھا اور فیصلہ سازی کے عمل یا آپریشنل نگرانی میں ملوث تھے جس کی وجہ سے "بلا اشتعال اور بلاجواز" پولیس فائرنگ ہوئی۔
سازش کے الزامات: ان پر سابق وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل، سابق وزیر داخلہ سکھبیر سنگھ بادل، اور سابق ڈی جی پی سومیدھ سنگھ سینی جیسی اعلیٰ شخصیات کے ساتھ سازش میں شریک ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔
آج کیا ہوا
آج 22 دسمبر 2025 کو امر سنگھ چاہل نے پٹیالہ میں اپنی رہائش گاہ پر خود کو گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی۔ ڈی جی پی کو لکھے گئے ایک 16 صفحات پر مشتمل خودکشی نوٹ میں جاری فائرنگ کیس کے بجائے ان کی کارروائی کی وجہ تقریباً 8.10 کروڑ روپے کے آن لائن فراڈ کی وجہ سے ہونے والی مالی پریشانی کا حوالہ دیا گیا ہے۔آخری اطلاعات آنے تک ان کی حالت نازک ہے۔