ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بچوں کوسوشل میڈیا کے زہر سے بچانےکیلئے سوئٹزرلینڈ آسٹریلیا کے نقشِ قدم پر

Social Media age limit, City42, Australian law, Swiss Home Minister
کیپشن: file photo سوشل میڈیا پر بچوں کو انتہائی برے اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حتیٰ کہ سوشل میڈیا بچوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے تک کا سبب بن جاتا ہے، حساس انسان اس مسئلے کو اپنے مستقبل کا سب سے بڑٓ مسئلہ تصور کرتے ہوئے اس سے نکلنے کے لئے تفکر کر رہے ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: ترقی یافتہ معاشروں میں بچوں کو سوشل میڈیا کی زہرناکی سے بچانے کے لئے  مسلسل کام کیا جا رہا ہے، آسٹریلیا کے بعد کئی ملکوں نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کے لئے عملی پیش رفت کی ہے، یورپی یونین نے تمام یورپی ملکوں میں یہ پابندی لگانے کے لئے اہم پیش رفت کی ہے۔ بچوں کو سوشل میڈیا سے بچانے کے لئے تفکر کرنے والے معاشروں میں اب سوئٹزر لینڈ بھی شامل ہے، شامل تو ان میں پاکستان بھی ہے لیکن کافی خاموشی کے ساتھ۔سوئٹزرلینڈ  میں بہرحال بھی بچوں کے سوشل میڈیا پر پابندی کیلئے بحث کافی آگے برھ چکی ہے۔

 سوئٹزرلینڈ کی  خاتون وزیرِ داخلہ ایلیزابت باؤم شنائیڈر نے کہا ہے کہ بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ نقصانات سے بچانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔  اس ضمن میں ہم بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے  پر پابندی کے لیے بھی تیار ہیں۔

 میڈیا  کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سوئس وزیرِ داخلہ نے آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر بارہ روز پہلے نافذ کی جا چکی  پابندی کا حوالہ دیا۔

خاتون وزیرِ داخلہ ایلیزابت باؤم شنائیڈر  نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کو بھی ایسے ہی اقدامات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

 انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا اور یورپی یونین میں ہونے والی بحث بہت اہم ہے، یہی بحث سوئٹزرلینڈ میں بھی ہونی چاہیے۔

  میں سوشل میڈیا پر پابندی سے متعلق کھلے دل سے غور کرنے کے لیے تیار ہوں، ہمیں اپنے بچوں کو بہتر طور پر تحفظ دینا ہوگا۔

 انہوں نے کہا کہ حکام کو یہ طے کرنا ہوگا کہ کن امور پر پابندی عائد کی جائے۔

  آسٹریلیا کے آسٹریلین بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روکنے کا قانون نافذ کرنے سے پہلے جو بحث چل رہی تھی اس مین بچوں کو زہریلے ایکسپوژر سے بچانے کے لئے  معمولی نوعیت کے اقدامات تجویز کئے جاتے رہے ، ان ممکنہ اقدامات میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی، نقصان دہ مواد کو محدود کرنا اور ایسے الگورتھمز کا سدباب شامل تھا  جو  بچوں کے بچپن کو ایکسپلائٹ کرتے ہیں اور ان  کی لاعلمی اور کم فہمی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اب آسٹریلیا نے فیصلہ کن قدم اٹھا کر ابتدا کر دی ہے جس نے ترقی یافتہ معاچروں میں پہلے سے چل رہی بحث کا رخ موڑ دیا ہے۔ 

 وزیر داخلہ ایلیزابت باؤم شنائیڈر نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر تفصیلی مشاورت آئندہ سال کے آغاز میں شروع کی جائے گی، جس کی بنیاد ایک جامع رپورٹ ہوگی۔ 

 آسٹریلیا میں 16 سال کے بچوں کے  سوشل میڈیا  میں آنے پر پابندی کو والدین اور بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے سراہا گیا ہے۔ اس قانون نے البتہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے کاروبار کے لئے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔