سٹی42: شمالی علاقوں میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات ایک اور گلیشئیر ٹوٹ گیا۔ گلیشیئر ٹوٹنے سے دیائے غذر ک کا بہاؤ رک گیا اور علاقہ میں سیلاب بھی آ گیا۔ غذر ضلع کے کئی گاؤں اچانک آنے والے سیلابی ریلے سے زیر آب آ گئے۔ راؤشن کی آبادی میں درجنوں افراد پھنس گئے۔ریسکیو 1122 کے مطابق امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے کم از کم 200 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔
راؤشن میں ایک کلومیٹر سڑک سیلاب میں بہہ گئی۔ دریا کا بہاؤ رکنے سے چار کلومیٹر طویل نئی جھیل بن گئی۔ جمعہ کی شام تک اس جھیل سے پانی رسنا شروع ہو گیا ہے۔ علاقہ میں بڑی تباہی کا شدید خطرہ ہے۔ پاک فوج کے جوان علاقہ مین بچاؤ کا کام کر رہے ہیں۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ نے بتایا کہ سیلاب سے لوگوں کا شدید مالی نقصان ہوا تاہم جانیں محفوظ ہیں۔
گلیشئیر کے ملبہ نے جھیل بنا دی، بڑے سیلاب کا خطرہ
فیض اللہ نے بتایا کہ غذر ضلع میں گوپس کے علاقہ تلی داس کے مقام پر ایک گلیشئیر پھٹ گیا جس سے اس علاقہ میں دریا کا بہاؤ رک گیا۔ چار کلومیٹر طویل جھیل سی بن گئی ہے جو کسی بھی وقت بڑے سیلاب کا سبب بن سکتی ہے۔
غذر کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے اطلاع دی کہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے دریائے گیزر کا بہاؤ صبح 3 بجے سے روکا ہوا ہے، جس سے پانی جمع ہو رہا ہے اور آس پاس کی بستیوں میں کٹاؤ اور ممکنہ سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب دیا کا بہاؤ اچانک بحال ہو گیا تو اس سے مزید نقصانات ہونے کا خدشہ ہے۔ متصل دیہات مزید زیر آب آنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔

حفاظتی نقل مکالی
ضلعی انتظامیہ نے دریائے غذر ک ے کنارے رہنے والے مکینوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے۔ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ دریا کے پاٹ میں ملبہ آنے سے بننے والی چار کلومیٹر طویل جھیل کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے اور اس جگہ جمع ہونے والا بے تحاشا پانی بڑے سیلاب کا سبب بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقامی رہائشیوں کو بروقت اطلاع جاری کر دی گئی جس سے کسی بھی جانی نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔
سو مکانات تباہ، دو سو افراد ریسکیو
سیلاب سے پھنسے 50 سے زائد افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ سیلاب سے سو مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
ترجمان جی بی حکومت نے کہا کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں، انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے افراد موقع پر موجود ہیں۔
ریسکیو 1122 کے ایک بیان میں کہا گیا کہ 200 افراد کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے نکال کر غذر کے یانگل اور سمل علاقوں میں منتقل کیا گیا ہے، کئی افراد کے مکانات تباہ ہونے کے بعد وہ صدمے میں ہیں، متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
گلیشئیر ٹوٹنے سے لینڈ سلائیڈنگ
ضلعی حکام نے بتایا کہ غذر میں گلیشیئر پھٹنے سے شدید لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس سے دریائے غذر کا بہاؤ مکمل طور پر رک گیا ، کئی بستیاں سیلاب سے متاثر ہو رہی ہیں، عطا آباد جھیل جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر غذر نے بتایا ہے کہ تالی داس راؤشن میں لینڈ سلائیڈ نگ کے باعث رات 3 بجے سے دریائے غذر مکمل بند ہے، دریائے غذر بند ہونے سے مزید آبادیاں سیلابی پانی کے کٹاؤ کی زد میں آ رہی ہیں، لوگوں کو بروقت اطلاع دی گئی جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لینڈسلائیڈنگ سے گلگت شندور روڈ مکمل طور پر بند ہو گیا ہے، تالی داس نالہ میں لینڈ سلائڈنگ دو اطراف سے ہوئی۔ تالی داس مین تیس مکان سیلاب کے پانی میں ڈوب گئے۔
تودے سے راؤشن گاؤں کی آبادی محصور ہوگئی۔ تاؤشن کے سو مکانات تباہ ہوئے ہیں۔
ایف سی این اے کا ہیلی کاپٹر پہنچ گیا
گلگت بلتستان کے وزیر داخلہ شمس لون نے بتایا کہ غذر میں ابھی تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ، کچھ لوگوں کے پھنسنے کی اطلاع ہے جنہیں ریسکیو کیلئے ہیلی کاپٹر طلب کیا گیا ہے۔ کمانڈر ایف سی این اے کی طرف سے ہنگامی بنیادوں پر ہیلی کاپٹر روانہ کر دیا گیا ہے۔
گلیشئیر ٹوٹنا/ پھٹنا کیا ہوتا ہے
گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (گلاف) گلیشیائی جھیل سے پانی کے اچانک اخراج کو کہا جاتا ہے، جو اچانک شدید سیلاب کا باعث بنتا ہے، اور اپنے راستے میں آنے والے دریاؤں کو بند یا مغلوب کر سکتا ہے۔
پاکستان میں 13 ہزار 32 سے زائد گلیشیئر موجود ہیں، جو قطبی علاقوں کے بعد سب سے بڑے ذخائر ہیں، تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ چترال اور گلگت بلتستان میں تقریباً 10 ہزار گلیشیئرز موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت بڑھنے سے تیزی سے پگھل رہے ہیں۔